بھاری جرمانے قبول نہیں، ٹرانسپورٹرز نے پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
پنجاب بھر کے ٹرانسپورٹرز نے ترمیم شدہ ٹرانسپورٹ آرڈیننس اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانوں کے خلاف کل پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کردیا۔
جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کے ٹرانسپورٹرز نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ 8 دسمبر کو پہیہ جام ہڑتال میں بھرپور حصہ لیں گے۔
مزید پڑھیں: گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث سپلائی چین مفلوج، معیشت کا پہیہ جام ہونے کا خطرہ
یونائیٹڈ ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین کے مطابق پیر کو تمام بس اڈے بند رہیں گے، یہ ہڑتال پورے پنجاب میں ہوگی اور ممکن ہے کہ غیر معینہ مدت تک جاری رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ٹرانسپورٹرز کی مشکلات کو سمجھنا چاہیے، کیونکہ 25 ہزار روپے ماہانہ کمانے والے موٹر سائیکل سوار پر 2 ہزار روپے جرمانہ لگانا ناانصافی ہے۔
گڈز ٹرانسپورٹرز نے بھی پاکستان یونائیٹڈ ٹرانسپوٹرز ایکشن کمیٹی کی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
ٹرانسپورٹرز کے رہنماؤں نے کہاکہ 8 دسمبر کو تمام ٹرمینلز مکمل طور پر بند رہیں گے اور پنجاب اسمبلی کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے قوانین اور جرمانے قابل مذمت ہیں کیونکہ یہ ٹرانسپورٹرز پر غیر ضروری بوجھ ڈال رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال، مکران ڈویژن کا کراچی سے رابطہ منقطع، مسافر پریشان
انہوں نے مزید کہاکہ قوانین میں ترمیم ٹرانسپورٹرز کے لیے معاشی قتل کے مترادف ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ یہ ظالمانہ اقدامات فوری واپس لیے جائیں۔ حکومتی فیصلوں میں عوامی مفاد کو نظر انداز کرنا ناقابل قبول ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھاری جرمانے پنجاب پہیہ جام ہڑتال ٹرانسپورٹرز راولپنڈی اسلام آباد وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھاری جرمانے پہیہ جام ہڑتال ٹرانسپورٹرز راولپنڈی اسلام ا باد وی نیوز ٹرانسپورٹرز نے پہیہ جام ہڑتال
پڑھیں:
سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر اس مرتبہ بھی انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو 10 جون کو ملک بھر سے پارلیمنٹیرین اسلام آباد پہنچ کر قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے۔اڈیالہ روڈ سے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت بانی پی ٹی آئی کی جماعت کی حکومت ہے اور صوبے کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے، اس لیے عوام کی خواہش ہے کہ صوبائی بجٹ ان کی ہدایات اور ترجیحات کے مطابق مرتب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بجٹ کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے ان کی منظوری حاصل کی جائے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، امن عامہ کی صورتحال اور اہم امور پر تبادلۂ خیال
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ وہ کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کریں گے اور امید ہے کہ اس مرتبہ ملاقات کی اجازت مل جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آج بھی بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ انہیں ناحق قید رکھا گیا ہے۔ ان کے بقول پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ کی غفلت کے باعث بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں مسئلہ پیدا ہوا جبکہ عوام میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ملاقاتوں پر پابندی کیوں عائد کی جا رہی۔
مایوسی کا دور ختم ، ہم ایک ماہ میں پوسٹ حج آپریشن کامیابی سے مکمل کریں گے: کنٹری منیجر ظہیرالدین آغا
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے اور صرف وہی وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ان کی ملاقات بیرسٹر گوہر کی درخواست پر ہوئی تھی، علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اور کسی کی خوشنودی کے لیے دونوں ممالک کے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور پاکستان کو خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے، خیبرپختونخوا کے آئندہ بجٹ میں سماجی بہبود، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔کرپشن کے الزامات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے دفتر کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں اور اگر کسی کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے۔
بری طرح تھکا ہوا تھا، خستہ حال بے خوابی سے بوجھل سوجی آنکھوں میں نیند کی شدت کا درد، آتے ہی چارپائی پر ایسا گرا کہ شام تک ہوش ہی نہیں آیا
مزید :