پنجاب بھر کے ٹرانسپورٹرز نے ترمیم شدہ ٹرانسپورٹ آرڈیننس اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانوں کے خلاف کل پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کردیا۔

جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کے ٹرانسپورٹرز نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ 8 دسمبر کو پہیہ جام ہڑتال میں بھرپور حصہ لیں گے۔

مزید پڑھیں: گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث سپلائی چین مفلوج، معیشت کا پہیہ جام ہونے کا خطرہ

یونائیٹڈ ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین کے مطابق پیر کو تمام بس اڈے بند رہیں گے، یہ ہڑتال پورے پنجاب میں ہوگی اور ممکن ہے کہ غیر معینہ مدت تک جاری رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ٹرانسپورٹرز کی مشکلات کو سمجھنا چاہیے، کیونکہ 25 ہزار روپے ماہانہ کمانے والے موٹر سائیکل سوار پر 2 ہزار روپے جرمانہ لگانا ناانصافی ہے۔

گڈز ٹرانسپورٹرز نے بھی پاکستان یونائیٹڈ ٹرانسپوٹرز ایکشن کمیٹی کی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

ٹرانسپورٹرز کے رہنماؤں نے کہاکہ 8 دسمبر کو تمام ٹرمینلز مکمل طور پر بند رہیں گے اور پنجاب اسمبلی کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے قوانین اور جرمانے قابل مذمت ہیں کیونکہ یہ ٹرانسپورٹرز پر غیر ضروری بوجھ ڈال رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال، مکران ڈویژن کا کراچی سے رابطہ منقطع، مسافر پریشان

انہوں نے مزید کہاکہ قوانین میں ترمیم ٹرانسپورٹرز کے لیے معاشی قتل کے مترادف ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ یہ ظالمانہ اقدامات فوری واپس لیے جائیں۔ حکومتی فیصلوں میں عوامی مفاد کو نظر انداز کرنا ناقابل قبول ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بھاری جرمانے پنجاب پہیہ جام ہڑتال ٹرانسپورٹرز راولپنڈی اسلام آباد وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھاری جرمانے پہیہ جام ہڑتال ٹرانسپورٹرز راولپنڈی اسلام ا باد وی نیوز ٹرانسپورٹرز نے پہیہ جام ہڑتال

پڑھیں:

گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

(جاری ہے)

حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔                                                              

متعلقہ مضامین

  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان