گڈز ٹرانسپورٹرز کا غیر معینہ مدت کیلیے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
کراچی:
گڈز ٹرانسپورٹرز نے بروز پیر سے غیر معینہ مدت تک ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کردیا۔
اس اعلان کا اظہار سابق رکن سندھ اسمبلی اور پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے صدر ملک شہزاد اعوان نے اپنے ویڈیو بیان میں کیا۔
ملک شہزاد اعوان کے مطابق گڈز ٹرانسپورٹرز نے پنجاب حکومت کو 72 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا تھا، جس میں گاڑیوں کے خلاف درج ایف آئی آرز واپس لینے، گاڑیوں کو ناجائز روکنے کا سلسلہ ختم کرنے اور ڈرائیورز کی گرفتاریوں پر اعتراضات شامل تھے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب پولیس کی جانب سے ٹرانسپورٹروں کے ڈرائیورز کو لاک اپ میں رکھا گیا جبکہ متعدد گاڑیوں کے خلاف ایف آئی آرز بھی درج کی گئیں، جس پر احتجاج کرتے ہوئے ٹرانسپورٹرز نے حکومت کو تین روز کی مہلت دی تھی۔
ملک شہزاد اعوان نے بتایا کہ 72 گھنٹوں کے دوران اگرچہ پنجاب حکومت کے نمائندوں نے رابطہ کیا لیکن مطالبات کے حل کے لیے کوئی عملی پیش رفت نہیں کی گئی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ پیر سے کراچی سمیت ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹرز کوئی لوڈنگ نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک وفاقی، پنجاب اور سندھ حکومتیں تمام مطالبات تسلیم نہیں کرتیں، پہیہ جام ہڑتال غیر معینہ مدت تک جاری رہے گی۔
ملک شہزاد اعوان نے اس تمام تر صورتحال کا ذمہ دار پنجاب حکومت کو قرار دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گڈز ٹرانسپورٹرز ملک شہزاد اعوان
پڑھیں:
بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ بجلی کے مجموعی بلوں میں کمی ہوئی ہے تاہم یہ درست ہے کہ فکسڈ چارجز دوگنا ہو گئے ہیں۔ سبسڈی ملتی رہی تو بجلی کی قیمت میں 5 سے 6 روپے فی یونٹ کمی کرتا رہوں گا۔ آنے والے دنوں میں دوپہر کے وقت شمسی توانائی سے کم نرخوں پر بجلی فروخت کی جائے گی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ جب مفتاح اسماعیل خود وزیر تھے تو 18 ہزار میگاواٹ خریدنے جا رہے تھے، ہم صرف 9 ہزار میگاواٹ خریدنے جا رہے ہیں، جس کی تفصیلات موجود ہیں۔ مجھے نہیں معلوم مفتاح اسماعیل کے پاس 26000 میگاواٹ کا اعداد و شمار کہاں سے آیا۔ اس اعداد و شمار میں نیٹ میٹرنگ بھی شامل ہے، جس پر کوئی صلاحیت کی ادائیگی نہیں کی جا رہی ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ جولائی 2025 سے اب تک بجلی کی کھپت میں 8 سے 9 فیصد اضافہ ہوا ہے جب کہ گزشتہ 9 سے 10 ماہ میں بجلی کی کھپت میں تقریباً 7 سے 9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بجلی کی کھپت بڑھ گئی ہے جو نیپرا کی ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہے۔ جب میں وزارت میں آیا تو اس میں سے 9 ہزار میگاواٹ لی۔ بقیہ 9000 میگاواٹ بجلی داسو اور بھاشا سے خریدی جائے گی۔ اس 9,000 میگاواٹ میں 1,200 میگاواٹ کا ایٹمی پلانٹ بھی شامل ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق میں نے پاور ڈویژن کے اخراجات آدھے اور ڈسکوز کے نقصانات کو کم کیا ہے۔ اس سال ڈسکوز کے نقصانات کو 586 ارب روپے سے کم کر کے 300 ارب روپے کر دوں گا۔ میں نے ٹیکس دہندگان کا پیسہ آدھا کر دیا ہے جو ہمارے فضول خرچیوں پر استعمال ہو رہا تھا۔ اگر سبسڈی جاری رہی تو بجلی کی قیمت میں 4، 5 سے 6 روپے کمی کرتا رہوں گا، میں نے ٹیکس دہندگان کے 600 ارب روپے بچائے ہیں۔
مزید پڑھیں۔روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی