تحریک لبیک پر پابندی کیلئے سپریم کورٹ میں باقاعدہ ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
تحریک لبیک پر پابندی کیلئے سپریم کورٹ میں باقاعدہ ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 23 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کا معاملہ وزارت قانون کو بھجوایا جائیگا، پابندی سے متعلق عدالت میں باقاعدہ ریفرنس دائر کیا جائے گا۔ذرائع نے بتایا کہ وزارت قانون تحریک لبیک پاکستان پر پابندی سے متعلق باقاعدہ ریفرنس سپریم کورٹ میں دائرکریگی، سپریم کورٹ سے ریفرنس کی منظوری پر الیکشن کمیشن ٹی ایل پی کو ڈی نوٹیفائی کریگا۔
ریفرنس کی منظوری پر الیکشن کمیشن ٹی ایل پی پرپابندی لگادے گی، 15 دنوں میں پابندی کا ریفرنس سپریم کورٹ میں فائل کیا جائیگا۔ذرائع نے ٹی ایل پی پر پابندی کے حوالے سے مزید بتایا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان تحریک لبیک پاکستان پرپابندی کاحتمی فیصلہ کریگی۔خیال رہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے ٹی ایل پی پر پابندی کی سفارش کی گئی تھی، وفاقی کابینہ نے مذہبی جماعت ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری دے دی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹی ایل پی کے پرتشدد مظاہرین کیخلاف کریک ڈاون جاری ، 954افراد گرفتار ٹی ایل پی کے پرتشدد مظاہرین کیخلاف کریک ڈاون جاری ، 954افراد گرفتار ملک میں جمادی الاول 1447ھ کا چاند نظر آگیا، 24 اکتوبر کو یکم جمادی الاول ہوگی پاکستان اور پولینڈ کے درمیان تجارت کا حجم ایک ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، اسحاق ڈار پنجاب میں بلدیاتی انتخابات موخر کرنے پر تنقید آئین و قانون سے لاعلمی کا اظہار ہے، الیکشن کمیشن کا ردعمل پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے 3ارکان کی رکنیت بحال، اسپیکر نے معطلی کا نوٹی فکیشن واپس لے لیا ٹی ایل پی پر پابندی، پنجاب حکومت کا رضوی برادران کو بھی گرفتار کرنے کا اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: باقاعدہ ریفرنس سپریم کورٹ میں تحریک لبیک پر پابندی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔