امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے کو ضم کرنے کی کوشش کی تو اسے امریکا کی اہم ترین حمایت سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل پر پابندیاں عائد کی جائیں، دنیا بھر کی 450 سے زائد یہودی شخصیات کی اپیل

یہ بات انہوں نے ٹائم میگزین میں جمعرات کو شائع ہونے والے انٹرویو کہی۔ مذکورہ انٹرویو رسالے کو 15 اکتوبر کو بذریعہ ٹیلی فون دیا گیا تھا جو آج شائع ہوا۔

صدر ٹرمپ کے اس بیان کے ساتھ ہی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اسرائیل کو کسی بھی قسم کے انضمام سے باز رہنے کی سخت تنبیہ کی۔

’ایسا نہیں ہونے دوں گا کیوں کہ عرب ممالک سے وعدہ کیا ہے‘

صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ نہیں ہوگا کیونکہ میں نے عرب ممالک سے وعدہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اب ہم ایسا نہیں کر سکتے ہمیں عربوں کی بڑی حمایت حاصل رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل نے یہ قدم اٹھایا تو اسے امریکا کی تمام حمایت کھو دینی پڑے گی۔

مزید پڑھیے: اسرائیلی پارلیمنٹ نے مقبوضہ مغربی کنارے پر خودمختاری کے بل کی ابتدائی منظوری دے دی

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں جلد فیصلہ کریں گے کہ آیا فلسطینی رہنما مروان برغوثی کو امن اقدامات کے تحت رہا کیا جائے یا نہیں۔

فتح تحریک سے وابستہ مروان برغوثی ان قیدیوں میں شامل تھے جن کی رہائی کا مطالبہ حماس نے غزہ کے معاہدے کے دوران کیا تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کئی اعلیٰ حکام کو اسرائیل بھیجا تاکہ اس غزہ سیزفائر (جنگ بندی) کو مستحکم کیا جا سکے جو ٹرمپ نے اسی ماہ کے آغاز میں کرایا تھا۔

بل بے وقوفانہ سیاسی حربہ ہے، نائب صدر جے ڈی وینس

تاہم وینس کے 3 روزہ دورے کے اختتام اور روبیو کی آمد کے موقع پر اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) نے 2 بل ابتدائی منظوری کے لیے پیش کیے جو مغربی کنارے کے انضمام کی راہ ہموار کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب کی مغربی کنارے پر اسرائیلی خودمختاری کے مجوزہ قانون کی مذمت

وینس نے ان بلز کو انتہائی بے وقوفانہ سیاسی حربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس کے وقت اور مقصد پر ذاتی طور پر توہین محسوس ہوئی۔

مارکو روبیو نے بھی روانگی سے قبل خبردار کیا کہ یہ اقدامات غزہ کی جنگ بندی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

امریکی قیادت کی تنبیہ

وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ پارلیمانی ووٹنگ فی الحال وہ چیز نہیں جس کی ہم حمایت کر سکتے ہیں اور یہ عمل جنگ بندی اور وسیع امن عمل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

نائب صدر جے ڈی وینس نے اپنے اسرائیل کے دورے کے اختتام پر واضح کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی یہ ہے کہ مغربی کنارہ اسرائیل کا حصہ نہیں بنے گا۔

اسرائیلی پارلیمنٹ نے بدھ کے روز ابتدائی طور پر 2 مسودے منظور کیے۔ ایک جس کے تحت اسرائیلی قانون کو معالیہ ادومیم پر لاگو کیا جائے گا اور دوسرا جس میں مغربی کنارے کے مزید حصوں پر اسرائیلی قانون کے نفاذ کی تجویز دی گئی۔

یہ بھی پڑھیے: عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل کو غزہ میں انسانی بحران کا ذمہ دار قرار دے دیا

یہ بل معمولی اکثریت سے منظور ہوئے تاہم انہیں حتمی منظوری سے قبل مزید کمیٹی جائزے اور 3 ریڈنگز سے گزرنا ہوگا۔

غزہ کی جنگ بندی کو خطرہ

مارکو روبیو نے کہا کہ اسرائیلی انضمامی اقدامات امریکی غزہ امن منصوبے کے اگلے مرحلے کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں جس کے تحت ایک عارضی غزہ انتظامیہ اسرائیلی فوج کا انخلا اور بین الاقوامی امن فورس کی تعیناتی شامل ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر مغربی کنارے میں کشیدگی بڑھی تو عرب اور مسلم ممالک کی وہ حمایت ختم ہو سکتی ہے جس کی غزہ میں استحکام کے لیے اشد ضرورت ہے۔

پاکستان و سعودی عرب سمیت دیگر اسلامی ممالک کا ردعمل

سعودی عرب، اردن، پاکستان، انڈونیشیا، ترکیہ، مصر، قطر، ملائیشیا، اور تنظیم تعاون اسلامی سمیت کئی اسلامی ممالک نے اسرائیلی کنیسٹ کے ان بلز کی سخت مذمت کی ہے جو مغربی کنارے پر اسرائیلی خودمختاری نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ان ممالک نے اسے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 کی صریح خلاف ورزی قرار دیا جس میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں اور انضمامی اقدامات کی مذمت کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی اسرائیلی پارلیمان کے متنازع بل اور فلسطینی خودمختاری کمزور کرنے کی شدید مذمت

فلسطینی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ کنیسٹ کے ان اقدامات کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے اور مغربی کنارے اور غزہ کو ایک غیر منقسم جغرافیائی اکائی قرار دیا جس پر اسرائیل کا کوئی حق خودمختاری نہیں۔

اردن نے بھی ان بلز کو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔

پاکستانی وزارت خارجہ کا بیان

پاکستان کی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ اسرائیل کے یہ اشتعال انگیز اور غیر قانونی اقدامات امن اور استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری اور فیصلہ کن کارروائی کرے۔

پاکستان نے اپنے دیرینہ مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور سنہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہوگا۔

تشدد میں اضافہ اور انسانی بحران

یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تشدد بڑھ رہا ہے اور غزہ میں اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں میں تباہی کی نئی لہریں پیدا ہو چکی ہیں۔

غزہ کے صحت حکام کے مطابق اب تک 68،300 سے زائد افراد اسرائیلی بمباری میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار بحران کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر مغربی کنارے میں مزید عدم استحکام پیدا ہوا تو یہ انسانی المیے کو بڑھا دے گا اور غزہ کی بحالی کے منصوبوں کو مزید پیچیدہ کر دے گا۔

مزید پڑھیے: صیہونی افواج کے ہاتھوں ماری جانے والی 10 سالہ راشا کی وصیت پر من و عن عمل کیوں نہ ہوسکا؟

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کے وزرا نے حالیہ دنوں میں امریکا کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کی ہیں تاکہ جنگ بندی اور امن منصوبے پر عملدرآمد جاری رہ سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ کی اسرائیل کو دھمکی غزہ فلسطین مغربی کنارا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ کی اسرائیل کو دھمکی فلسطین مارکو روبیو نے پر اسرائیلی پر اسرائیل نے کہا کہ کرنے کی کا کہنا اور ان کے لیے کہ اگر

پڑھیں:

امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان

امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔

’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔

اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔

مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں

امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔

دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔

مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔

امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔

یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘

1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔

تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو

متعلقہ مضامین

  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان