تنازعہ کشمیر کا اب تک حل نہ ہونا اقوام متحدہ کے وجود پر ایک بڑا سوالیہ نشان
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
رپورٹ میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں کشمیریوں کے آزادانہ اور منصفانہ استصواب رائے کے حق کی توثیق کرتی ہیں اور اقوام متحدہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آج جب دنیا بھر میں اقوام متحدہ کا دن منایا جا رہا ہے، کشمیری اپنے پیدائشی حق، حق خودارادیت سے متعلق عالمی ادارے کی قراردادوں پر عملدرآمد کے منتظر ہیں۔ آج اقوام متحدہ کے قیام کے 80 برس پورے ہونے پر جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت جموں و کشمیر سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کا دن ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ 7 دہائیوں سے زائد عرصے سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہونے کے باوجود تنازعہ کشمیر آج بھی حل طلب ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں کشمیریوں کے آزادانہ اور منصفانہ استصواب رائے کے حق کی توثیق کرتی ہیں اور اقوام متحدہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند ہے۔کشمیر کا تنازعہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر سب سے پرانا مسئلہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کے 5 اگست 2019ء کے غیر جمہوری، غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات مقبوضہ جموں و کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کا انحصار تنازعہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل پر ہے، عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ حق خودارادیت کے لیے کشمیری عوام کی جائز جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ تنازعہ کشمیر کا اب تک حل نہ ہونا اور کشمیریوں کی حق خودارادیت سے مسلسل محرومی اقوام متحدہ کے وجود پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ بھارتی فورسز نے 1947ء سے اب تک ساڑھے چار لاکھ سے زائد کشمیریوں کو بھارت کے تسلط سے آزادی کے مطالبے کی پاداش میں شہید کیا ہے۔
دریں اثناء کل جماعتی حریت کانفرنس نے سری نگر سے جاری ایک بیان میں بھارت کی جانب سے کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے عالمی ادارے سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی کا نوٹس لے اور تنازعہ کشمیرکو اپنی پاس کردہ قراردادوں کے مطابق حل کرانے کیلئے کردار ادا کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رپورٹ میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے اقوام متحدہ کی حق خودارادیت کی قراردادوں کشمیریوں کے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔