بابا گرونانک کے 556ویں جنم دن کی تقریبات: بھارت سے 2 ہزار 200 سکھ یاتری 4 نومبر کو پاکستان پہنچیں گے
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
راؤ دلشاد:بابا گرونانک کے 556ویں جنم دن کی تقریبات کے سلسلے میں بھارت سمیت دنیا بھر سے سکھ یاتریوں کی پاکستان آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومتِ پاکستان نے بھارتی یاتریوں کو ویزے جاری کر دیے ہیں، اور 2 ہزار 200 سکھ یاتری 4 نومبر کو واہگہ بارڈر کے راستے لاہور پہنچیں گے۔
سکھ یاتری 10 روز تک پاکستان میں قیام کریں گے، اس دوران وہ جنم استھان ننکانہ صاحب، حسن ابدال پنجہ صاحب، کرتارپور صاحب اور لاہور میں واقع ڈیرہ صاحب پر مذہبی رسومات ادا کریں گے۔
اداکار شریاس تالپڑے اور الوک ناتھ کے خلاف کروڑوں روپے کے فراڈ میں ملوث ہونے کا الزام، مقدمہ درج
بھارت کے علاوہ برطانیہ، امریکا، یورپ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، کینیڈا اور دیگر ممالک سے بھی سکھ یاتری پاکستان پہنچیں گے۔
واضح رہے کہ بیساکھی میلے کے موقع پر رواں سال 5 ہزار 800 یاتریوں نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سکھ یاتری
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :