فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
—تصویر بشکریہ سوشل میڈیا
آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی ہے۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل کی مصری صدر سے ملاقات قاہرہ کے اتحادیہ صدارتی محل میں ہوئی ہے، جس میں پاک مصر دو طرفہ تعلقات، خطے کی صورتِ حال اور باہمی دلچسپی کے امور پرتبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں پاک مصر طویل المدتی دوستی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خطے میں امن و استحکام کے لیے مصری قیادت کے کردار کو سراہا۔
اس موقع پر مصری صدر السیسی نے عالمی اور امتِ مسلمہ کے اہم معاملات میں پاکستان کے مثبت اور فعال کردار کی تعریف کی۔
فریقین نے باہمی اسٹریٹجک مفادات پر مبنی قریبی رابطوں اور عوامی سطح پر تعلقات کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔
ملاقات میں پاکستان اور مصر کے درمیان تاریخی برادرانہ تعلقات کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے اتفاق کیا کہ سماجی و معاشی تعاون، ٹیکنالوجی اور سیکیورٹی کے شعبوں میں دو طرفہ اشتراکِ عمل کو بڑھایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل عاصم منیر
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔