کراچی سمیت ملک بھر میں بجلی مہنگی کرنے کی درخواست، نیپرا 6 نومبر کو سماعت کرے گا
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
فائل فوٹو
بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے نیپرا میں ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی مہنگی کرنے کی درخواست دائر کردی۔
یہ درخواست رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے لیے کی گئی ہے۔
بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے نیپرا سے صارفین پر 8 ارب 41 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کی سفارش کی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ کیپیسٹی چارجز کی مد میں 21 ارب 70 کروڑ روپے کی وصولی کرنی ہے، تاہم آپریشنز اینڈ مینٹیننس کی مد میں 3 ارب 98 کروڑ روپے کی کمی واقع ہوئی ہے۔
اسی طرح یوز آف سسٹم چارجز میں 6 ارب 43 کروڑ روپے اور ٹرانسمیشن و ڈسٹری بیوشن نقصانات میں 2 ارب 88 کروڑ روپے کی کمی رپورٹ کی گئی ہے۔
نیپرا کے مطابق بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی اس درخواست پر سماعت 6 نومبر کو ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کروڑ روپے
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔