Jang News:
2026-06-03@00:41:48 GMT
پنجاب میں مالی بےضابطگیوں سے متعلق 25 کیسوں کی تحقیقات کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
—فائل فوٹو
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی تھری نے پنجاب میں مالی بےضابطگیوں سے متعلق 25 کیسوں کی تحقیقات کا آغاز کردیا۔
سیکریٹری ہیلتھ کو مالی بدعنوانی کے 25 کیسز کی تحقیقات 30 دن میں مکمل کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی تھری کے مطابق 2021 اور 22 میں پنجاب بھر کی ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز میں ادویات غیرقانونی طور پر خریدی گئیں۔2021 اور 22 کی آڈٹ رپورٹ میں ملازمین کی غیر قانونی بھرتی کی گئی۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی تھری کے مطابق اسپتالوں کے لیے سامان اور ادویات مارکیٹ سے تین گنا زائد نرخ پر خریدنے کا انکشاف ہوا
چیئرمن پبلک اکاؤنٹس کمیٹی تھری احمد اقبال نے کہا کہ عثمان بزدار کے دور میں پنجاب کو بے دردی سے لوٹا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی تھری
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔