Daily Mumtaz:
2026-07-24@10:23:47 GMT

پاکستان میں وبائی امراض کے تدارک کے لیے اہم پیشرفت

اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT

پاکستان میں وبائی امراض کے تدارک کے لیے اہم پیشرفت

اسلام آباد(طارق محمود سمیر)پاکستان کے شعبہ صحت میں شفافیت اور مؤثر حکمرانی کی جانب ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا گیا ہے۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں ملک کے معروف پبلک ہیلتھ ماہر اور وائس چانسلر ہیلتھ سروسز اکیڈمی، پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی خان کو گلوبل فنڈ پاکستان کی اوور سائیٹ کمیٹی (Oversight Committee) کا چیئرمین منتخب کر لیا گیا ہے۔
سی سی ایم سیکرٹریٹ میں ہونے والے انتخابات میں ڈاکٹر شہزاد علی خان نے بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کی، جو ان کی پیشہ ورانہ قابلیت اور قیادت پر اراکین کے اعتماد کی واضح علامت ہے۔ وہ آئندہ دو سال کے لیے اس اہم عہدے پر خدمات انجام دیں گے۔
گلوبل فنڈ کی یہ کمیٹی پاکستان میں ایچ آئی وی (HIV)، ٹی بی (TB) اور ملیریا جیسے مہلک امراض کے خاتمے کے لیے جاری اربوں روپے کے منصوبوں کی نگرانی کے لیے ذمہ دار ہے۔ اس کمیٹی کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ عالمی فنڈز کا استعمال شفاف اور مؤثر حکمت عملی کے تحت ہو، پروگرامز کی مالی نگرانی کی جائے، خریداری کے عمل کی جانچ پڑتال کی جائے اور کسی بھی رکاوٹ یا قانون کی خلاف ورزی پر فوری اصلاحی اقدامات تجویز کیے جائیں۔
ڈاکٹر شہزاد علی خان کی تعیناتی کو طبی حلقوں میں “صحت کے شعبے کے لیے نیک شگون” قرار دیا جا رہا ہے۔ پبلک ہیلتھ کے ماہرین کے مطابق، پروفیسر شہزاد علی خان نہ صرف کہنہ مشق اور دیانتدار شخصیت کے مالک ہیں بلکہ ان کی قیادت میں گلوبل فنڈ کے منصوبوں میں جوابدہی کا نظام مضبوط ہوگا۔
توقع کی جا رہی ہے کہ ان کی سربراہی میں بیماریوں کے کنٹرول کے قومی پروگراموں میں نئی روح پھونکی جائے گی اور فنڈز کے ضیاع کو روکا جا سکے گا تاکہ یہ حقیقی معنوں میں مریضوں کی بہتری اور صحت عامہ کے فروغ کے لیے استعمال ہوں۔
یہ فیصلہ پاکستان میں صحت کے شعبے میں شفافیت اور مؤثر حکمرانی کی طرف ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو ایڈز، ٹی بی اور ملیریا کے خلاف جنگ میں نئی امید پیدا کرتا ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: شہزاد علی خان کے لیے

پڑھیں:

امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے

امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • پاکستان نے چین کے لئے نیا سفیر نامزد کردیا
  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو