چین۔امریکہ اقتصادی تعلقات کی اصل نوعیت مشترکہ کامیابی پر مبنی ہے، چینی نائب وزیر اعظم
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
چین۔امریکہ اقتصادی تعلقات کی اصل نوعیت مشترکہ کامیابی پر مبنی ہے، چینی نائب وزیر اعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 26 October, 2025 سب نیوز
کوا لا لمپور () چین اور امریکہ کے درمیان اقتصادی و تجارتی امور پر چینی وفد کے سربراہ اور چین کے نائب وزیراعظم حہ لی فنگ اور امریکی وفد کے سربراہ اور امریکی وزیر خزانہ بیسنٹ اور تجارتی نمائندہ گریئر نے ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں چین۔امریکہ اقتصادی اور تجارتی مشاورتی مذاکرات میں شرکت کی۔
اتوار کے روز
دونوں فریقوں نے رواں سال ، چین اور امریکہ کے رہنماوں کے درمیان ہونے والی متعدد ٹیلی فونک بات چیت میں طے شدہ اہم اتفاقِ رائے کی روشنی میں، امریکہ کی جانب سے چین کے بحری لاجسٹکس اور شپ بلڈنگ انڈسٹری کے خلاف 301 اقدامات، مساوی محصولات کی معطلی کی میعاد میں توسیع، فینٹانائل کے محصولات اور انفورسمنٹ تعاون، زرعی پیداوار کی تجارت، برآمدی کنٹرول جیسے دونوں فریقوں کے مشترکہ اہم اقتصادی اور تجارتی مسائل پر مخلصانہ، گہرا اور تعمیری تبادلہ خیال کیا۔
دونوں فریقوں کے درمیان اپنے اپنے تحفظات کے حل کے حوالے سے بنیادی اتفاقِ رائے پایا گیا۔ فریقین نے مزید تفصیلات طے کرنے اور اپنے اپنے ملکی منظوری کے عمل کو مکمل کرنے پر اتفاق کیا۔
حہ لی فنگ نے کہا کہ چین۔امریکہ اقتصادی و تجارتی تعلقات کی اصل نوعیت باہمی مفاد اور مشترکہ کامیابی پر مبنی ہے۔ دونوں فریقوں کے تعاون سے دونوں فائدے میں رہتے ہیں اور تصادم کی صورت میں دونوں کو نقصان ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقتصادی اور تجارتی تعاون میں پیدا ہونے والے اختلافات اور تحفظات کے بارے میں، دونوں فریقوں کو باہمی احترام، پرامن بقائے باہمی، اور تعاون کے ذریعے مشترکہ کامیابی کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے، مساوی مکالمے اور مشاورت کے ذریعے ایک دوسرے کے تحفظات کے مناسب حل کا راستہ تلاش کرنا چاہیے۔
حہ لی فنگ نے مزید کہا کہ چین-امریکہ اقتصادی اور تجارتی مشاورتی مذاکرات کے نتائج آسانی سے حاصل نہیں ہوئے ، انہیں دونوں فریقوں کے مشترکہ تحفظ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکہ چین کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کے رہنماوں کے درمیان ہونے والی متعدد بات چیت کے اہم اتفاقِ رائے اور اس سال کے دوران ہونے والے اقتصادی اور تجارتی مشاورتی مذاکرات کے نتائج پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کرے گا، باہمی اعتماد کو مزید مضبوط بنائے گا، اختلافات کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کرے گا، باہمی مفاد کے تعاون کو وسعت دے گا، اور دو طرفہ اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مسلسل اعلیٰ سطح پر لے جائے گا۔
امریکی فریق نے کہا کہ امریکہ۔چین اقتصادی اور تجارتی تعلقات دنیا کے سب سے بااثر دو طرفہ تعلقات ہیں، امریکہ ، چین کے ساتھ مساوات اور احترام کی بنیاد پر اختلافات کو حل کرنے، تعاون کو مضبوط بنانے، اور مشترکہ ترقی حاصل کرنے کے لیے تیار ہے۔
فریقین نے اتفاق کیا کہ وہ دونوں ممالک کے رہنماوں کی اسٹریٹجک رہنمائی میں چین-امریکہ اقتصادی و تجارتی مشاورت میکانزم کوبھرپور انداز سے بروئے کار لائیں گے، اقتصادی و تجارتی شعبوں میں اپنے اپنے تحفظات پر قریبی رابطہ برقرار رکھیں گے، اور چین۔امریکہ اقتصادی و تجارتی تعلقات کو صحت مند، مستحکم، اور پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچے اور عالمی خوشحالی کو فروغ ملے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربالاکوٹ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے ڈیم میں دریا کے بہاؤ کو روکنے کا کام کامیابی سے مکمل پاک افغان مسئلہ حل کرنا مشکل نہیں ہے، فی الحال کچھ نہیں کررہا، ڈونلڈ ٹرمپ ترکیہ میں بحیرہ ایجیئن حادثہ، مہاجرین کی کشتی ڈوبنے سے 17 افراد جاں بحق مودی اڈانی گٹھ جوڑ نے بھارت کو کرپشن کی دلدل میں دھکیل دیا، واشنگٹن پوسٹ کا انکشاف ضرورت پڑی تو قطر بھی غزہ میں فوج بھیجے گا، غزہ میں پائیدار امن چاہتے ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کی غزہ میں امن معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری، حملے میں 6 فلسطینی زخمی ہم اسرائیل کو دوبارہ جنگ شروع کرنے کا جواز نہیں دیں گے، سربراہ حماسCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چین امریکہ اقتصادی مشترکہ کامیابی
پڑھیں:
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔
ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔
دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔
موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔
قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟
اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں