مردہ مرغیوں کا گوشت فروخت کرنے والا دھر لیا گیا، 4 سال قید، 10 لاکھ جرمانہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
عوام کی صحت سے کھیلنے والے شخص کو عبرتناک انجام کا سامنا۔ سینئر سول جج محمد ضیاء خان نے مردہ مرغیوں کا گوشت فروخت کرنے کے مقدمے میں ملزم کو 4 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنادی۔
یہ بھی پڑھیں:کیا برائلر چکن واقعی قوت مدافعت کم کرتا ہے؟
عدالتی حکم کے مطابق اگر ملزم جرمانہ ادا نہ کر سکا تو اسے مزید 14 ماہ قید بھگتنا ہوگی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی پنجاب فوڈ اتھارٹی نے کی تھی، جس نے ملزم کو مردہ مرغیوں کا گوشت فروخت کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ اتھارٹی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ملزم عوام کو بیمار اور غیر معیاری گوشت فروخت کر کے منافع کما رہا تھا۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ عوام کی صحت سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جا سکتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بہاولنگر چکن مردہ مرغیاں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بہاولنگر چکن مردہ مرغیاں گوشت فروخت
پڑھیں:
ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
قومی اقتصادی سروے 26-2025 میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں سمیت دیگر جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور مالی سال 26-2025 میں لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔
قومی اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی جو سالانہ 1.9 فیصد اضافہ ہوا اور خچروں کی تعداد 1.8 فیصد اضافے کے بعد دو لاکھ 21 ہزار ہوگئی ہے۔
سروے میں بتایا گیا کہ گھوڑوں کی تعداد میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی ہے، ملک میں رواں مالی سال کے دوران بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کرگئی اور سالانہ 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی طرح گائے کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے جو 3.8 فیصد اضافہ ہے، بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھ گئی اور سالانہ 2.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
قومی اقتصادی سروے میں مزید بتایا گیا کہ ملک میں بھیڑوں کی تعداد 1.2 فیصد بڑھ کر 3 کروڑ 35 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے، اونٹوں کی تعداد میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار ہوگئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال ماہی گیری کے شعبے میں 1.7 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔