گنے کی قیمت پر اجارہ داری کرنے والے شوگر ملز کارٹل پکڑے گئے
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مسابقتی کمیشن نے پنجاب کی 10 شوگر ملوں کو کارٹل بنانے پر شوکاز جاری کر دیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق شوگر ملوں نے گنے کی کرشنگ میں تاخیر کا فیصلہ گٹھ جوڑ بنا کر کیا اور گنے کی قیمت 400 روپے فی من فکس کی۔ اس عمل میں کسانوں کو نظر انداز کیا گیا۔
کمیشن کے اعلامیے میں بتایا گیا کہ 10 نومبر کو ایک مل میں خفیہ میٹنگ ہوئی، جس میں کئی شوگر ملوں کے نمائندے آن لائن بھی شامل تھے۔ اس میٹنگ میں کرشنگ کے آغاز اور قیمتیں فکس کرنے کا مشترکہ فیصلہ کیا گیا، جو مسابقتی ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔
مسابقتی کمیشن نے 10 شوگر ملوں کو 14 دن میں تحریری جواب دینے کے لیے شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کرشنگ میں تاخیر کی وجہ سے چینی کی مصنوعی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، اور جس شوگر مل میں خفیہ میٹنگ ہوئی اسے بھی شوکاز جاری کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شوگر ملوں
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔