1971ء کی جنگ میں دشمن کو دھول چٹانے والےمیجر شبیر شریف کا 54 واں یوم شہادت، فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خراج عقیدت
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
راولپنڈی ( ڈیلی پاکستان آن لائن )1971ء کی جنگ میں دشمن کو دھول چٹانے اور مادر وطن کے دفاع میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والے میجر محمد شبیر شریف شہید نشان حیدر کا آج 54 واں یوم شہادت ہے۔
چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے میجر شبیر شریف شہید کو خراج عقیدت پیش کیا۔ نیول چیف اور ائیر چیف نے بھی میجر شبیر شریف کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 1971 کی جنگ میں میجرشبیرشریف کوسلیمانکی ہیڈ ورکس کے قریب اہم سٹریٹجک مقام کو محفوظ بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔5 اور 6 دسمبر کی درمیانی شب میجر شبیرشریف نے اپنی قیادت میں دشمن پر قریب سے کاری ضربیں لگائیں۔ میجرشبیرشریف نے حملہ آور 4 جٹ رجمنٹ کے کمانڈر میجر نرائن سنگھ کو ہلاک کیا۔
مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں،اقوام متحدہ ماہرین نے بھارت کو انتباہ جاری کر دیا
آئی ایس پی آر کے مطابق 6 دسمبر کو میجر شبیرشریف نے بےخوف ہو کر دشمن کے متعدد جوابی حملوں کو ناکام بنایا۔ شہداء کی قربانیاں ملک کی خودمختاری اور سلامتی کی حفاظت کا مضبوط ستون ہیں۔دشمن کے خلاف بہادری سے مقابلہ کرنے پر میجر شبیر شریف شہید کو 1965کی جنگ میں ستارۂ جرأت اور 71 کی جنگ میں نشان حیدر سے نواز ا گیا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: میجر شبیر شریف کی جنگ میں
پڑھیں:
چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیںمستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی
چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔