اسلام آباد:قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی نے اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں و مراعات کو وفاقی سیکرٹری کے برابر کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد یہ تجویز سمری کی صورت میں وزیراعظم شہباز شریف کو ارسال کر دی گئی ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ میں اسمبلی سیکرٹریٹ کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ کی ماہانہ تنخواہ اور مراعات 5 لاکھ 19 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ منظوری کے بعد اراکین پارلیمنٹ کو سہولیات بھی وفاقی سیکرٹری کے برابر فراہم کی جائیں گی۔

ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے 67 اراکین نے تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کیا تھا جب کہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتوں نے بھی اس پر اتفاق ظاہر کیاتاہم، اس سے قبل اراکین پارلیمنٹ نے 10 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ کا مطالبہ کیا تھاجو اسپیکر ایاز صادق نے مسترد کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ مالیاتی بجٹ 2024-25ء میں اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کا اختیار فنانس کمیٹی کو دیا گیا تھا، جس کی منظوری کے بعد  اب یہ فیصلہ وزیراعظم کی منظوری کا منتظر ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں مہنگائی اور معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔ عوامی حلقوں سے ممکنہ ردعمل کے پیش نظر حکومت کے لیے اس تجویز پر عمل درآمد چیلنج بن سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلہ وزیراعظم کی منظوری کے بعد ہوگا، جس پر عوام کی جانب سے گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اراکین پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد

پڑھیں:

وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی

اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔

مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔

وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔

مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ