Express News:
2026-07-24@04:12:57 GMT

’’گرین لینڈ کے بیشتر باشندے آزادی چاہتے ہیں‘‘

اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2025 GMT

ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جو خود کو ایک ماہر ڈیل میکر کے طور پر پیش کرتے ہیں، گرین لینڈ حاصل کرنا ایک پُرکشش موقع معلوم ہوتا ہے۔ ٹرمپ طویل عرصے سے کہتے چلے آ رہے ہیں کہ وہ اس وسیع، نیم خودمختار برفیلے جزیرے کو خریدنا چاہتے ہیں جو ڈنمارک کا حصہ ہے۔یہ غیر استعمال شدہ معدنی وسائل سے مالا مال اور تقریباً 56  ہزارافراد کا گھر ہے۔

2019 ء میں صدر کے طور پر اپنی پہلی مدت کے دوران ٹرمپ نے تجویز پیش کی تھی کہ امریکہ کو گرین لینڈ خریدنا اور اسے ایک ریئل اسٹیٹ ڈیل کے طور پر تیار کرنا چاہیے۔ 2025 ء میں صدر بن کر ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ وہ قومی اور اقتصادی سلامتی کے بارے میں فکر مند ہیں، یہ مانتے ہوئے کہ امریکہ کو چین اور روس سے خطرہ لاحق ہے۔ دونوں ممالک نے آرکٹک میں اپنی عسکری سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔

ٹرمپ نے یہ بھی سوال کیا ہے کہ کیا ڈنمارک کے پاس گرین لینڈ کے حقوق ہیں؟ اور کہا کہ اگر ایسا ہے تو تب بھی کوپن ہیگن کو اسے امریکہ کے حوالے کر دینا چاہیے۔ ’’میرے خیال میں گرین لینڈ ہمیں مل جائے گا کیونکہ اس کا تعلق دنیا کی آزادی کے ساتھ ہے۔" انہوں نے گزشتہ ماہ ایئر فورس ون میں موجود نامہ نگاروں کو بتایا۔

انھوں نے اپنے مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں فوجی حملے کو مسترد کرنے سے انکار کر دیا ۔یوں اس خطرے نے امریکہ کا یورپ کے ساتھ تناؤ کا ایک نیا باب کھول دیا۔گرین لینڈ کی حکومت( نالاککرسوئسوٹ )کے اس وقت کے چیئرمین، کم کیلسن نے کہا تھا کہ یہ علاقہ فروخت کے لیے تیار نہیں۔گرین لینڈ اور ڈنمارک کی حکومتیں اب ایک بار پھر اسی پیغام پر روشنی ڈال رہی ہیں۔

گرین لینڈ کی حکومت کے موجودہ چیئرمین، Múte Bourup Egedeنے آزادی کی امنگوں کو اجاگر کیا ہے اور ڈنمارک، یورپی یونین اور امریکہ سمیت دیگر طاقتوں کے ساتھ تعاون میں دلچسپی کی تصدیق کی ہے۔ بڑھتے ہوئے تناؤ، ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کے گرین لینڈ کے حالیہ دورے، علاقے میں رائے عامہ کے تازہ ترین جائزوں، ڈنمارک کے ساتھ تعلقات اور آرکٹک میں بڑھتی ہوئی شپنگ ٹریفک کی وجہ سے آب و ہوا کے بڑھتے چیلنجوں کے بارے میں یونیورسٹی آف گرین لینڈ سے وابستہ سماجی سائنسدان اور ایمریٹس پروفیسر، برگر پوپل (Birger Poppel) کا انٹرویو پیش ہے۔

سوال: ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے ایک آئیڈیا بیچنے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے نجی جیٹ میں گرین لینڈ کا دورہ کیا ۔کہا گیا کہ امریکہ کی طرف سے خریدنے سے گرین لینڈ کی قسمت بہتر ہو گی۔ مقامی رپورٹس کے مطابق کچھ گرین لینڈرز کو کیمرے پر یہ کہنے پر مجبور کیا گیا کہ ان کے پاس ہر چیز کی کمی ہے اور وہ امریکہ سے محبت کرتے ہیں۔ کیا گرین لینڈ کے باشندے امریکہ سے محبت کرتے ہیں؟

جواب : خیال کو بیچنا بہت درست طریقے سے ٹرمپ جونیئر کے آدھے دن کے نیوک دورے کے مقصد کا خلاصہ کرتا ہے۔ٹرمپ کا ہراول دستہ ایک دن پہلے پہنچا، جہاں انہوں نے ’’میک امریکہ گریٹ اگین‘‘ کی ٹوپیاں ان لوگوں کو دیں جن سے وہ ملے تھے اورجو جونیئر اور اس کی پی آر ٹیم کے پہنچنے پر نیوک ہوائی اڈے پر آنے پر راضی ہوئے۔

پہنچنے پر جونیئر کا استقبال ٹرمپ کے حامی ایک مقامی نے کیا جس نے ایک کارکن کے طور پر ٹرمپ کی انتخابی مہم میں حصہ لیا تھا۔ ساتھ میں MAGA ٹوپیاں پہنے ہوئے چند مٹھی بھر مقامی لوگوں اور نیوک کے متجسس شہریوں کے ایک گروپ موجود تھا۔ ایونٹس میں سے ایک مقامی لگڑری ریسٹورنٹ میں دوپہر کا کھانا تھا، جہاں مقامی لوگوں کو اور بنیادی طور پر سماجی طور پر پسماندہ اور وسائل سے محروم افراد کو مفت کھانا ملا۔

جونیئر کا دورہ ایک بڑا پی آر سٹنٹ تھا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ وہ سیاحتی دورے پر تھے، لیکن وہ اور گروپ بنیادی طور پر جعلی خبروں اور ہیرا پھیری سے متعلق معلومات پر مبنی سیاسی پیغامات لے کر آئے تھے ۔ یہ امریکہ کے بارے میں گرین لینڈرز کے خیالات کے بارے میں ان کے بیان پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

گرین لینڈ کی پارلیمنٹ (Inatsisartut) میں پانچ میں سے چار پارٹیاں بشمول دونوں حکومتی جماعتیں کو اپنے سیاسی پروگراموں کے حصے کے طور پر گرین لینڈ کی آزادی حاصل ہے۔ گرین لینڈ کی آبادی کی اکثریت دس سے بیس سال کے اندر آزادی چاہتی ہے اور اس شرط پر کہ معیار زندگی کو برقرار رکھا جا سکے۔تاہم حال ہی میں شائع ہونے والے رائے عامہ کے سروے سے پتا چلتا ہے کہ گرین لینڈ کے 85 فیصد باشندے نہیں چاہتے کہ گرین لینڈ ڈنمارک کے دائرے سے نکل جائے اور اس کے بجائے ریاستہائے متحدہ کا حصہ بن جائے۔اگر گرین لینڈ کی آبادی کو ڈینش یا امریکی شہری ہونے کا انتخاب دیا جائے تو 55 فیصد ڈینش شہریت کا انتخاب کریں گے، جبکہ 8 فیصد امریکی شہریت کا انتخاب کریں گے۔

سوال: ٹرمپ کے اس نظریے کا اندازہ کیسے لگایا جائے کہ گرین لینڈ امریکی قومی اور اقتصادی سلامتی سے منسلک ہے؟ کیا اس کو چین اور روس سے خطرات لاحق ہیں؟

جواب: اگر کوئی ٹرمپ کے الفاظ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو خطرہ شاید ہی اتنا زیادہ قوی ہو۔ یہ بھی واضح رہے کہ ٹرمپ نے امریکہ کے سب سے وفادار نیٹو شراکت داروں میں سے ایک کے خلاف دھمکی دی ہے۔یہ ٹرمپ کی قواعد پر مبنی بین الاقوامی سماجی نظام کو قبول کرنے یا اس کا احترام کرنے میں ناکامی کی صرف ایک مثال ہے جہاں قومی سرحدوں کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس طرح ٹرمپ کا بیان بھی (روسی صدر ولادیمیر)پوتن کی یوکرین کے خلاف جنگ کوجائز قرار دینے کے مترادف ہے۔

امریکہ کے پاس گرین لینڈ میں اپنے جیوسٹریٹیجک اہداف حاصل کرنے کے مواقع ہیں جس میں شمالی گرین لینڈ میں ایک اڈہ ہے اور ڈنمارک کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہے۔ مگر "اقتصادی سلامتی" کا مطلب ہے خام مال کے نکالنے تک رسائی، مثال کے طور پر نادر زمینی عناصر (REE) تک،تو گرین لینڈ کی حکومت نے خود امریکہ اور امریکی کمپنیوں کو گرین لینڈ میں تلاش اور ترقی کے لائسنس کے لیے درخواست دینے کی دعوت دی ہے۔مگر ابھی صرف ایک امریکی کمپنی کے پاس لائسنس ہے۔

لہذا ٹرمپ کے بیانات کی وجوہ ہو سکتی ہیں ۔ یا تو یہ اصل حالات کے بارے میں ناکافی بصیرت کی وجہ سے ہے، یا گرین لینڈ کی ملکیت کی خواہش بنیادی ووٹرز سے اس بات کی نشاندہی کرنے کی اپیل کرنا ہے کہ "امریکہ کو دوبارہ عظیم بنائیں" کو علاقائی طور پر بھی سمجھا جانا چاہیے، جیسا کہ پاناما کینال کا معاملہ ہے۔

سوال: آرکٹک کو عام طور پر نہ صرف جغرافیائی بلکہ سیاسی طور پر بھی منجمد اور دور دراز کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔یہ کیا بدل رہا ہے؟

جواب: گلوبل وارمنگ کا مطلب ہے، دوسری چیزوں کے علاوہ یہ کہ آرکٹک اوقیانوس میں برف کا احاطہ حد اور موٹائی دونوں میں کم ہو رہا ہے۔ اس کا مطلب شپنگ ٹریفک میں اضافہ ہوا ہے۔شپنگ ٹریفک میں اضافے کا مطلب چین اور روس سے ٹریفک میں اضافہ بھی ہوگا۔ ٹرمپ کو بظاہر خدشہ ہے کہ اس ٹریفک کا کچھ حصہ روس اور چین کے جنگی بحری جہازوں پر مشتمل ہوگا۔

حالیہ دہائیوں میں روس نے روسی آرکٹک ساحل کی بڑھتی ہوئی رسائی کے مطابق ساحل کے ساتھ ملٹری تنصیبات کو جدید اور اپ گریڈ کیا ہے اور روسی بحریہ کو بھی آئس بریکر کے ساتھ جدید بنایا ہے۔ایک انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آرکٹک میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی سلامتی کی ضروریات کو درست قرار دیا، کیونکہ چین گرین لینڈ میں بندرگاہ کی سہولیات چاہتا ہے۔ روبیو نے اسے ٹرمپ کی امریکہ کے گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کی خواہش کی دلیل کے طور پر دیکھا۔

پانچ آرکٹک ممالک… کینیڈا، گرین لینڈ/ڈنمارک، ناروے، اور روس، ریاستہائے متحدہ امریکہ جو آرکٹک سمندر سے متصل ہیں، 2008 ء سے نام نہاد Ilulissat ڈیکلریشن میں خطّے میں تنازعات کو پُرامن طریقوں سے حل کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ دس سال بعد 2018 ء میں پانچ آرکٹک ساحلی ریاستوں نے Ilulissat اعلامیہ کی تصدیق کی، اس طرح آرکٹک کو کم تناؤ والے علاقے کے طور پر برقرار رکھا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ روس اور چین، دونوں کی آرکٹک میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ روس نے جس کی طویل ساحلی پٹی آرکٹک اوقیانوس کے نصف حصے سے ملتی ہے، آرکٹک فوجی تنصیبات کو جدید بنایا ہے۔ اور چین آرکٹک کے روسی حصے سے تیل اور گیس لینے کے علاوہ مستقبل میں کم نقل و حمل کے اخراجات کے ساتھ آرکٹک سمندری راستوں کے استعمال میں دلچسپی رکھتا ہے۔

سوال: ٹرمپ کے گرین لینڈ پر کسی بھی ضروری طریقے سے قبضہ کرنے کے وعدے سے یورپ حیران رہ گیا۔ ڈنمارک کی حکومت نے گرین لینڈ میں سیکیورٹی بڑھانے کے لیے منصوبے شروع کیے ہیں۔ آپ ڈنمارک کے ردعمل کو کیسے دیکھتے ہیں؟

جواب: گرین لینڈ کی حکومت اور ڈینش پارلیمنٹ کے گرین لینڈی ارکان نے برسوں سے گرین لینڈ کے علاقے اور گرین لینڈ کے ساحل سے دور پانیوں کی نگرانی کے لیے ایک بڑھتی ہوئی ترجیح کی ضرورت کی نشاندہی کی ہے۔2019 ء میں ڈنمارک کی حکومت نے گرین لینڈ کی نگرانی بڑھانے کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے فنڈز مختص کیے، لیکن گزشتہ چار سالوں میں ڈینش حکومت پر گرین لینڈ کے سیاسی دباؤ کے باوجود نگرانی بہتر بنانے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔گرین لینڈ اور ڈنمارک کے ساتھ معاہدے کے ذریعے امریکہ کے پاس مزید اڈے قائم کرنے کا اختیار ہے لیکن اس نے اس انفرادی آپشن کا فائدہ نہیں اٹھایا۔

سوال: گرین لینڈ میں امریکی اڈے کے بارے میں آپ ہمیں کیا بتا سکتے ہیں؟

جواب: امریکہ نے 1953 ء میں تھول ایئر بیس قائم کیا جب علاقے کے اصل باشندوں، Inughuitکو ڈنمارک کی ریاست کی طرف سے زبردستی منتقل کر دیا گیا تاکہ اڈے کے لیے جگہ بنائی جا سکے۔اڈہ، جسے اب پٹوفِک اسپیس بیس کہا جاتا ہے، اس میں قبل از وقت انتباہی نظام، خلائی نگرانی کا امکان اور سیٹلائٹ کی کمان موجود ہے۔ بیس کے شہری حصے نے بعض اوقات گرین لینڈ اور ڈینش دونوں کارکنوں کے لیے روزگار فراہم کیا ہے۔

سوال: کیا آپ خراب ہوتی عالمی آب و ہوا کے بارے میں فکر مند ہیں؟

جواب: امریکہ رکازی (فوسلز)ایندھن کی زیادہ پیدوار کا پروگرام رکھتا ہے۔ امریکی پیداوار میں اضافے کا مطلب CO2 کے اخراج میں اضافہ اور درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بنے گا اور اس طرح تمام قسم کی برف کے پگھلنے میں اضافہ ہوگا۔ٹرمپ مزید تیل اور گیس برآمد کرنے کے قابل ہونے کا خواب دیکھتے ہیں، اور بڑھتی ہوئی شپنگ ٹریفک آب و ہوا کے اثرات میں مزید حصہ ڈالے گی۔مارکو روبیو کے بیانات ہیں کہ ایندھن کی نقل و حمل بڑی حد تک شمال سے اور گرین لینڈ کے مغربی ساحل کے ساتھ ہونی چاہیے۔ اس کا مطلب آرکٹک کے کمزور سمندری ماحول میں ماحولیاتی آفات کا خطرہ جنم لے گا اور کسی بھی صورت میں جنگلی حیات کو متاثر کرے گا ، کم از کم سمندری ممالیہ کو جو شور کے سلسلے میں بہت حساس ہیں۔n

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: گرین لینڈ کی حکومت گرین لینڈ میں کے گرین لینڈ گرین لینڈ گرین لینڈ کے کے بارے میں ا گرین لینڈ شپنگ ٹریفک ڈونلڈ ٹرمپ بڑھتی ہوئی اور ڈنمارک میں اضافہ ڈنمارک کی امریکہ کے ڈنمارک کے کے طور پر کے ساتھ کا مطلب ٹرمپ کے کرنے کے اور روس اور اس ہے اور کیا ہے کے لیے کے پاس

پڑھیں:

امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور

امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔

مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔

Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.

This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP

— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026

اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز

متعلقہ مضامین

  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران