ٹرمپ حکومت کو جھٹکا: امریکی عدالت نے یو ایس ایڈ کو بند کرنے سے روک دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 19 March, 2025 سب نیوز

نیویارک(آئی پی ایس)امریکہ میں ایک وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے USAID (یو ایس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ) کو بند کرنے کے فیصلے کو روک دیا۔ عدالت نے ایلون مسک اور ڈپارٹمنٹ فار گورنمنٹ ایفیشنسی (Doge) کی کوششوں کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیا۔

جج تھیوڈور چوانگ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ USAID کو بند کرنے کی کارروائیاں غیر آئینی ہو سکتی ہیں اور فوری طور پر ادارے کے ملازمین کو دوبارہ کام پر بحال کرنے کا حکم دیا۔

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جبUSAID کے ملازمین نے عدالت میں مقدمہ دائر کیا، جس میں مؤقف اپنایا گیا کہ ایلون مسک کا حکومتی اداروں پر کنٹرول غیر قانونی ہے کیونکہ انہیں نہ تو سرکاری طور پر کوئی عہدہ دیا گیا اور نہ ہی امریکی سینیٹ نے ان کی تقرری کی منظوری دی۔

ٹرمپ حکومت نے جنوری میں اقتدار سنبھالنے کے بعد 90 دن کے لیے تمام غیر ملکی امداد پر پابندی عائد کی تھی، جس کے تحت USAID بھی متاثر ہوا۔

عدالت کے فیصلے کے بعد USAID کے 80 فیصد سے زائد منصوبے بند ہونے کے باوجود مزید کٹوتیوں پر پابندی لگ گئی ہے۔ وہائٹ ہاؤس نے عدالتی فیصلے کو “انصاف کا قتل” قرار دیتے ہوئے اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا۔

یہ فیصلہ ٹرمپ حکومت کے لیے ایک اور قانونی دھچکا ہے، کیونکہ اسی ہفتے ایک اور وفاقی جج نے وینزویلا کے مبینہ گینگ ممبرز کی ملک بدری روک دی تھی، جس پر ٹرمپ نے جج کی برطرفی کا مطالبہ کیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: کو بند کرنے ٹرمپ حکومت

پڑھیں:

کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔

عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔

ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔

دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔

تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ