بیوی کی انسٹاگرام ویڈیو نے شوہر کو نوکری سے معطل کرادیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
چندی گڑھ(نیوز ڈیسک )بیوی کی انسٹاگرام ویڈیونے پولیس کانسٹیبل شوہر کو نوکری سے معطل کرادیا۔
یہ واقعہ بھارتی شہر چندی گڑھ میں 20 مارچ کو پیش آیا تھا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
ویڈیو میں خاتون کو ایک مشہور ہریانوی گانے پر رقص کرتے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ اردگرد ٹریفک جام ہو رہا ہے۔
خاتون اپنی نند کے ہمراہ گوردوارے گئی تھی جہاں سے واپسی پر انہوں نےانسٹاگرام کی ریل بنائی۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ہیڈ کانسٹیبل جسبیر نے تھانے میں شکایت درج کرائی جس کے بعد پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا۔
پولیس نے خاتون اور اسکی نند کے خلاف عوامی مقامات پر رکاوٹ ڈالنے اور عوامی تحفظ کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔
خاتون کے شوہر ٹریفک کانسٹیبل اجے کنڈو کو بھی معطل کر دیا گیا۔
اس فیصلے پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل آیا، کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ کانسٹیبل کو ان کی اہلیہ کے عمل کی سزا نہیں ملنی چاہیے تھی جبکہ کچھ نے سوشل میڈیا پر ریل بنانے کے بڑھتے ہوئے رجحان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ معطلی کا فیصلہ غلط ہے اس نے تو بس تفریح کی تھی جبکہ دوسرے صارف نے لکھا کہ یہ ریل بنانے کی لت کیا ہو چکی ہے؟ لوگوں کو کچھ اور کام کرنا چاہیے۔
View this post on InstagramA post shared by Sandeep Khatri (@khatri_sandeep1)
مزیدپڑھیں:کے پی حکومت کسی بھی افغان مہاجرکو زبردستی نہیں نکالے گی، علی امین گنڈاپور کا اعلان
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔