لاہور( نیوز ڈیسک) یانگو (Yango) پاکستان جو کہ ایک عالمی ٹیک کمپنی یانگو (Yango) گروپ کا حصہ ہے، نے مسافروں کی حفاظت کو بڑھانے کے لیے ایک جرات مندانہ قدم میں پنجاب سیف سٹی اتھارٹی (PSCA) کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدہ مضبوط حفاظتی اقدامات کو نافذ کرنے کے مشتر کہ عزم کی عکاسی کرتا ہے جن کا مقصد سروس استعمال کرنے والی خواتین، بچوں اور دیگر مسافروں کی حفاظت کرنا ہے۔ یہ تزویراتی تعاون رائیڈ ہیلنگ کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل کی نشاندہی کرتا ہے کیونکہ دونوں فریقین پاکستان میں نقل و حرکت کو محفوظ ، بہتر اور زیادہ جامع بنانے کے لیے مل کر کام کرتے ہیں۔ شراکت داری کے تحت اہم اقدامات میں خواتین کی حفاظت کے لیے ایپ میں پولیس ہیلپ لائن ( 15 ) پر ڈائریکٹ کال شامل ہے جو خواتین مسافروں کو ذہنی سکون کے لیے یانگو ایپ کے ذریعے براہ راست پولیس ہیلپ لائن تک رسائی کی اجازت دیتی ہے۔ اس میں سیکورٹی کے بہتر اقدامات کے طور پر چائلڈ سیفٹی ہیلپ لائن بھی موجود ہے جو بچوں اور دیگر مسافروں کے لیے سواری کے محفوظ ماحول کو یقینی بناتی ہے۔ اس تعاون کا مقصد مسافروں اور ڈرائیوروں دونوں کے تحفظ کو مضبوط بناتے ہوئے اضافی ٹیکنالوجیز اور حفاظتی پروٹو کولز کو تلاش کرنا اور بروئے کار لانا ہے۔ یادداشت پر دستخط کی تقریب PSCA ہیڈ کوارٹر میں ہوئی اور اس کی ذمہ داری PSCA کے چیف آپریٹنگ آفیسر ایس ایس پی (ر) کیپٹن مستنصر فیروز اور یانگو (Yango) پاکستان میں پبلک پالیسی اینڈ گورنمنٹ ریلیشنز کے سر براہ محمد جہانگیر خان نے سرانجام دی۔ کنٹری ہیڈ، یانگو پاکستان، میرال شریف نے کہا کہ یانگو (Yango) پاکستان میں مسافروں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔ یہ شراکت داری سب کے لیے جبکہ خاص طور پر خواتین اور بچوں کی محفوظ اور قابل اعتماد نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے ایک

مضبوط قدم ہے۔ ہم پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے ساتھ شراکت میں یہ پہلا قدم اٹھاتے ہوئے بے حد پر جوش ہیں اور مسلسل تعاون اور مقامی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے موزوں حل کے ذریعے اپنی کوششوں کو وسعت دینے کے منتظر ہیں۔ ایس ایس پی (ر) کیپٹن مستنصر فیروز نے کہا کہ پنجاب سیف سٹی اتھارٹی شہریوں آمد و رفت کو محفوظ بنانے کے لیے یانگو (Yango) پاکستان کے ساتھ اس تعاون کا خیر مقدم کرتی ہے۔ یہ مشترکہ اقدام جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے محفوظ کمیونیٹیز کی تعمیر کے ہمارے مشترکہ مشن کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستانی مارکیٹ کے لیے اپنی وسیع تر وابستگی کے حصے کے طور پر یانگو (Yango) حفاظت،سستی اور قابل اعتمادسواری پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اپنے آغاز ہی سے یانگو تیزی سے رائیڈ ہیلنگ میں سب سے زیادہ بھروسہ مند نام بن گیا ہے جس میں قابل رسائی قیمتوں کا تعین اور بلڈنگ سسٹم جو مقامی ضروریات اور ترجیحات میں شامل ہیں۔ یہ شراکت داری ان پیش رفتوں کے سلسلے کا صرف آغاز ہے جو یانگو (Yango) پاکستان پورے ملک میں سواری کے تجربے کو مزید بلند کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ یانگو YANGO کے بارے میں: یانگو YANGO ایک بین الاقوامی ٹیک کمپنی ہے جو مقامی افزودگی کے لیے عالمی ذرائع سے حاصل کردہ ٹیکنالوجیز کو روزمرہ کی خدمات میں تبدیل کرتی ہے۔ جدت طرازی کے لیے غیر متزلزل عزم کے ساتھ ہم دنیا بھر کی جدید ترین ٹیکنالوجیز کونئی شکل دیتے ہیں، ان میں اضافہ کرتے ہیں اور بغیر کسی رکاوٹ کے مربوط روزانہ خدمات میں اضافہ کرتے ہیں۔ ہمارا مشن دنیا کی سرکردہ جدتوں اور مقامی کمیونٹیز کے درمیان فرق کو ختم کرنا، روابط کو فروغ دینا اور روزمرہ زندگی کے تجربات کو بڑھانا ہے۔ یانگو YANGO افریقہ، لاطینی امریکہ، یورپ اور مشرق وسطی کے سے زائد ممالک میں اپنی بہترین ایپ اور رائیڈ ہیلنگ سروسز فراہم کرتا ہے۔ یا نگو YANGO کی کثیر از بانی ایپ اینڈرائیڈ اور آئی او ایس پر مفت دستیاب ہے۔ مزید معلومات کے لیے، براہ کرم رابطہ کریں: [email protected]

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پنجاب سیف سٹی اتھارٹی مسافروں کی حفاظت شراکت داری کے ساتھ کرتا ہے کے لیے

پڑھیں:

انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں

جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے کہ اسلام کی دعوت اور پیغام کو مخاطب کی زبان میں اس کی ذہنی سطح اور نفسیات کے مطابق پیش کیا جائے۔ مکہ مکرمہ کے قریشی سردار جب جناب رسول اللہؐ کی دعوت توحید کے اثرات سے پریشان ہو کر جرگے کی صورت میں آنحضرتؐ کے پاس آئے اور پوچھا کہ آخر آپؐ کی دعوت کا مقصد کیا ہے اور آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ تو رسول اکرمؐ نے ان کے مزاج و نفسیات اور ذہنی سطح کو سامنے رکھتے ہوئے یہ جواب دیا کہ ’’میں ایک ایسا کلمہ تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں کہ اگر تم اسے قبول کر لو تو عرب و عجم تمہارے تابع ہوں گے۔‘‘ جناب نبی اکرمؐ کو معلوم تھا کہ یہ لوگ غلبہ، قوت اور اقتدار کے سوا کسی اور زبان کو نہیں سمجھتے اس لیے آپؐ نے انہی کی زبان میں دعوت اسلام کے نتائج و فوائد سے انہیں آگاہ کیا۔ اور یہ بات خلاف واقعہ بھی نہ تھی اس لیے کہ اسلام کی دعوت کو قبول کرنے کے بے شمار نتائج و منافع میں سے ایک منفعت یہ بھی تھی۔ چونکہ سوال کرنے والوں کے ہاں اس منفعت کی اہمیت زیادہ تھی اس لیے آنحضرتؐ نے اسی کا حوالہ دے کر ان کے سوال کا جواب مرحمت فرمایا۔اس پس منظر میں آج کے دور میں دعوتِ اسلام کی ضروریات اور تقاضوں کا جائزہ لیا جائے اور جناب رسالت مآبؐ کی سیرت طیبہ کو نسل انسانی کے سامنے پیش کرنے کے لیے ترجیحات پر غور کیا جائے تو ضروری معلوم ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کے بارے میں قرآن کریم کی تعلیمات اور رسول اکرمؐ کے ارشادات و احکام کو زیادہ اہمیت کے ساتھ منظر عام پر لایا جائے۔ اور انسانی معاشرہ کو بتایا جائے کہ انسانی حقوق کے تعین اور تحفظ کا جو معیار اور دائرہ کار اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر نے کم و بیش ڈیڑھ ہزار سال قبل دنیا کے سامنے پیش کیا تھا، انسانی عقل تدریج و ترقی کے تمام مراحل طے کرنے اور مختلف نظام ہائے زندگی کا تجربہ کرنے کے باوجود اس کا کوئی متبادل سامنے نہیں لا سکی، اور انسانی معاشرہ ایک بار پھر پریشانی اور اضطراب کے عالم میں اپنے مسائل و مشکلات کے حل کے لیے کسی مسیحا کے انتظار میں ہے۔
آج کی دنیا میں ’’انسانی حقوق‘‘ کی زبان سب سے زیادہ توجہ کے ساتھ سنی جانے والی زبان ہے، جبکہ ورلڈ میڈیا اور لابیوں نے اسے صرف زبان کی حد تک نہیں رہنے دیا بلکہ وقت کا موثر ترین ہتھیار بنا دیا ہے جو عالم اسلام اور تیسری دنیا کی اقوام کے خلاف مغرب کے ہاتھوں میں کامیابی کے ساتھ استعمال ہو رہا ہے۔ اور مغرب جسے چاہتا ہے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور جنیوا کنونشن کی قراردادوں کے شکنجے میں جکڑ کر انسانی حقوق کی چھری کے ساتھ ذبح کر دیتا ہے۔ مغرب انسانی حقوق کے حوالہ سے جتنے بلنگ بانگ دعوے کر لے، مگر انسانی حقوق اور فری سوسائٹی کے مغربی تصور پر مبنی سولائزیشن نے نتائج و ثمرات کے لحاظ سے آج جو روپ دھار لیا ہے اس نے خود مغربی دانش وروں کو حیران و ششدر کر دیا ہے اور مغربی معاشرہ میں جنسی انارکی اور فیملی سسٹم کی تباہی نے گورباچوف جیسے مدبر کو یہ لکھنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہم نے عورت کو گھر سے نکال کر غلطی کی ہے اور اب اسے گھر واپس لے جانے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔دراصل مغرب حقوق و فرائض میں توازن قائم رکھنے اور ان کے درمیان حد فاصل قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جبکہ جناب رسول اللہؐ نے حقوق اور فرائض کو نہ صرف یکجا ذکر کیا بلکہ ان کے درمیان ایسا حسین توازن قائم کر دیا جو گاڑی کے دو پہیوں کی طرح انسانی زندگی کا یکساں بوجھ اٹھا سکتا ہے اور اسے لے کر کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔ مگر مغرب نے حقوق و فرائض کو آپس میں گڈمڈ کر دیا اور ان کے درمیان کوئی خط امتیاز قائم نہ رہنے دیا جس کی وجہ سے انسانی معاشرہ ذہنی انتشار اور فکری انارکی کی آماجگاہ بن کر رہ گیا ہے۔ مثلاً اقتدار اور حکومت کو نبی اکرمؐ نے فرائض اور ذمہ داریوں میں شمار کیا ہے اور قدم قدم پر اس ذمہ داری کی نزاکت اور سنگینی سے خبردار کیا ہے۔ اس کا منطقی نتیجہ حکمرانوں میں احساس ذمہ داری اور خداخوفی کی صورت میں ظاہر ہوا اور لوگ اقتدار کی دوڑ میں شریک ہونے کی بجائے اس سے بچنے میں عافیت محسوس کرنے لگے۔ مگر مغرب نے اسے حقوق کی فہرست میں رکھ دیا اور اس حق کو حاصل کرنے کے لیے جو دوڑ لگتی ہے اس کے فوائد و نقصانات کا تناسب ہر ذی شعور پر واضح ہے۔ محنت، مزدوری اور ملازمت کے ذریعے روزی کمانا اور اہل خانہ کی کفالت کرنا رسول اکرمؐ کی تعلیمات کی رو سے فرائض کا حصہ ہے اور ڈیوٹی ہے جو گھر کے سربراہ پر عائد ہوتی ہے۔ مگر مغرب نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں بے شمار افراد کے قتل ہوجانے کے باعث پیدا ہونے والے افرادی قوت کے خلاء کو پر کرنے کے لیے عورت کو گھر سے باہر لانے کی ضرورت محسوس کی تو ملازمت اور محنت و مزدور ی کی ڈیوٹی پر ’’حقوق‘‘ کا خوشنما لیبل چسپاں کر کے اس غریب کو ورغلا لیا۔ اور وہ ’’عقل کی پوری‘‘ بچہ جننے اور اس کی پرورش کرنے کی ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ اسے کما کر کھلانے کی ڈیوٹی میں بھی شامل ہو کر خوش ہونے لگی کہ اب میں مردوں کے شانہ بشانہ ’’مساوی حقوق‘‘ سے بہرہ ور ہو گئی ہوں۔
(جاری ہے)

متعلقہ مضامین

  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا