بجلی صارفین کے لیے 53 ارب روپے سے زائد ریلیف کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
ملک بھر کے بجلی صارفین کو گزشتہ مالی سال کی آخری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 53 ارب روپے سے زائد کا ریلیف ملنے کا امکان ہے۔ اس ضمن میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں باضابطہ درخواست جمع کرا دی ہے۔
مزید پڑھیں: بجلی صارفین کے لیے خوشخبری، نیپرا نے بنیادی ٹیرف میں کمی کی منظوری دیدی
درخواست میں بتایا گیا ہے کہ کیپیسٹی پے منٹس کی مد میں صارفین کو 53 ارب 71 کروڑ روپے کا فائدہ ہوگا، جبکہ یوز آف سسٹم چارجز کی مد میں 66 کروڑ 20 لاکھ روپے کا اضافی بوجھ اور آپریشن و مینٹیننس کے لیے 18 کروڑ 20 لاکھ روپے کی ادائیگی کرنا پڑے گی۔
مزید پڑھیں: نیپرا نے بجلی کی قیمت مزید کم کردی، سرمائی پیکج کا بھی اعلان
نیپرا کو دی گئی تفصیلات کے مطابق مجموعی طور پر صارفین کو 53 ارب 39 کروڑ روپے کا ریلیف پہنچے گا۔ ریگولیٹری اتھارٹی ان درخواستوں پر سماعت 4 اگست کو کرے گی، اور جو فیصلہ کیا جائے گا وہ کراچی سمیت ملک بھر کے بجلی صارفین پر لاگو ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بجلی صارفین ریگولیٹری اتھارٹی نیپرا نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بجلی صارفین ریگولیٹری اتھارٹی نیپرا ریگولیٹری اتھارٹی بجلی صارفین کے لیے
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔