پاک بھارت کشیدگی، بھارتی نیوز چینل نے غلط خبریں چلانے پر معافی مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
بھارت(نیوز ڈیسک)بھارتی نیوز چینل آج تک نے پاک بھارت کشیدگی میں غلط خبریں چلانے پر معافی مانگ لی۔
بھارتی چینل کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ہیک شدہ بیانات اور سوشل میڈیا پر ادھر ادھر سے لی گئی معلومات کی بھرمار نے صحیح اور غلط کی جانچ مشکل بنادی، صحیح معلومات کی چھان بین کے باوجود کچھ غلط خبریں نشرکی گئیں، جس پر معافی چاہتے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے پاکستان پر حملے سے متعلق فیک نیوز پر سوشل میڈیا پر میمز کی بھرمار ہوگئی
بھارتی سینئر صحافیوں نے بھی بھارتی نیوز چینلز کے پروپیگنڈے پر تنقید کی ہے۔ سینئر صحافی راج دیپ سردیسائی نےکہا ہےکہ صحافت جنگی جنون نہیں ہوتی،فرضی کہانیوں کو حقیقت بنا کر پیش نہیں کیا جاتا۔
ایک اور سینئر صحافی سدھارتھ ورادراجن نے کہا کہ بھارتی چینلز کی رپورٹس نہ صرف جھوٹی اور گمراہ کن تھیں بلکہ اشتعال انگیز بھی تھیں۔
سینئر بھارتی صحافی رویش کمار نےکہا کہ گودی میڈیا نے سچائی کو دفن کردیا۔
خیال رہےکہ بھارتی نیوز چینلز نےگزشتہ رات کراچی لاہور، اسلام آباد اور پشاور پر بھارتی حملوں کا پروپیگنڈا کیا تھا اور جھوٹ کا بازار گرم کیا تھا۔ پاکستانی حکام نے ان رپورٹس کو جھوٹا اور گمراہ کن قرار دےکر مسترد کردیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بھارتی نیوز
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔