ضلعی انتظامیہ نے 7 اضلاع میں 14 مقامات پر مویشی منڈی لگانے کی اجازت دی ہے اور واضح کیا ہے کہ غیر قانونی مویشی منڈیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ کمشنر کراچی نے دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے شہر میں غیر قانونی مویشی منڈیاں قائم کرنے پر ایک ماہ کیلئے پابندی عائد کر دی، جبکہ شہر میں 14 مقامات پر مویشی منڈیوں کی اجازت دی گئی۔ کمشنر ہاؤس سے جاری نوٹیفیکشن کے مطابق کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے احکامات جاری کیے ہیں کہ شہر میں غیر قانونی مویشی منڈیوں اور سڑک کنارے جانور فروخت کرنے پر دفعہ 144 کے تحت  پابندی عائد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے خلاف ورزی کی تو قانون حرکت میں آئے گا اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، اجازت شدہ مویشی منڈیوں کے علاوہ جانوروں کی خریدو فروخت پر پابندی ہوگی۔ کراچی کی ضلعی انتظامیہ نے 7 اضلاع میں 14 مقامات پر مویشی منڈی لگانے کی اجازت دی ہے اور واضح کیا ہے کہ غیر قانونی مویشی منڈیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ کمشنر کراچی کی جانب سے مویشی منڈی انتظامیہ کو پارکنگ، صفائی ستھرائی اور سیکیورٹی انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: غیر قانونی مویشی مویشی منڈیوں

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت