جس کے شروع میں ’را‘ لگے اسے تو فیل ہونا ہی تھا، قادر پٹیل کا رافیل پر دلچسپ تبصرہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) رہنما پاکستان پیپلز پارٹی قادر پٹیل نے بھارت کے رافیل طیاروں پر دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسے چلانے کیلیے دل اور گردے رکھنے والا پائلٹ بھی درکار ہوتا ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے قادر پٹیل نے کہا کہ بھارت کو رافیل پر بڑا ناز تھا لیکن جس کے شروع میں ’را‘ لگے اسے تو فیل ہونا ہی تھا، ہمارے پائلٹ نے کہا کہ رافیل تو بہت اچھا طیارہ ہے لیکن چلانا آنا چاہیے، دنیا بھارت کو ٹیکنالوجی دیتے ہوئے 100 بار سوچے کہ یہ بے عزتی کروائیں گے۔
قادر پٹیل نے کہا کہ رافیل جیسے جہاز چلانے کیلیے دل گردہ رکھنے والا پائلٹ بھی چاہیے ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ دشمن پر رات کے اندھیرے میں حملہ نہ کرو، تیسرے دن صبح ہم نے ایسے میزائل داغے کہ دشمن کی چیخیں نکل گئیں، پاک فوج، سپہ سالار اور تمام سیاسی جماعتوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، نریندر مودی نے غلط قوم سے پنگا لیا ہے، پاکستانی قوم بھارتی ڈرونز کے آنے کا انتظار کرتی تھی، بھارتی ڈرونز گرنے والے مقامات پر میلے کا سماں ہوتا تھا۔
رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ میزائل ٹیکنالوجی لانے کا سہرا بینظیر بھٹو کے سر ہے جبکہ جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کا سہرا یوسف رضا گیلانی کے سر ہے، بلاول بھٹو نے عالمی میڈیا پر پاکستان اور بنیان مرصوص کا بھرپور دفاع کیا۔
قادر پٹیل نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو بھارت کے خلاف صدی کی عظیم ترین فتح ملی ہے، پوری قوم و سیاسی جماعتوں نے تاریخی اتحاد کا مظاہرہ کیا، پاکستان نے بھارت پر اپنی واضح برتری ثابت کی اور دنیا کو پرامن ملک ہونے کا واضح پیغام دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کسی صورت اپنے دفاع سے غافل نہیں، پاکستان نے بھارت کو بلیک میل نہیں کیا بلکہ وارننگ دی ہے، پاکستان نے اپنے دفاع کیلیے ایٹمی طاقت حاصل کی، پاکستان دہشتگردی سے شدید ترین متاثرہ ملک ہے، دہشتگردی کی جنگ میں ہمارے ایک لاکھ کے قریب شہری شہید ہوچکے ہیں۔
مزیدپڑھیں:بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کی ترقی کا منصوبہ تیار
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: قادر پٹیل نے نے کہا کہ
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔