رجب طیب اردوان کا پاکستانی قوم کے ساتھ حمایت کا واضح اعلان
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
ترکیہ کی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترکیہ کے صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی پر ہمیں خوشی ہے، ہم نے کشمیر میں وحشیانہ دہشت گرد حملے اور پاکستان پر میزائل حملوں پر واضح موقف کا اظہار کیا۔ اسلام ٹائمز۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے برادر پاکستانی قوم کے ساتھ اپنی حمایت کا واضح اعلان کردیا۔ ترکیہ کی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی پر ہمیں خوشی ہے، ہم نے کشمیر میں وحشیانہ دہشت گرد حملے اور پاکستان پر میزائل حملوں پر واضح موقف کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ نے دونوں ممالک کے درمیان انتہائی خطرناک سطح تک پہنچ جانے والے تناؤ کو کم کرنے کے لیے انتھک کوششیں کیں، اپنے بھائی وزیراعظم شہباز شریف کو ٹیلی فون کیا، ان سے اہم گفتگو ہوئی۔
ترک صدر کا کہنا تھا کہ پاکستانی بھائیوں کو ان کے صبر و تحمل اور دانشمندانہ موقف پر ایک بار پھر مبارک پیش کرتا ہوں، مشورہ ہے دونوں ممالک اشتعال انگیزی میں نہ پھنسیں۔ رجب طیب اردوان کا مزید کہنا تھا کہ جنگ بندی سے قائم ہونے والا پرسکون ماحول تمام مسائل، بالخصوص پانی کے مسئلے کے حل کو آسان بنائیں، ترکیہ ان شاء اللہ برادر پاکستانی قوم کے ساتھ ان کے اچھے اور برے دنوں میں کھڑا رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رجب طیب اردوان کہنا تھا کہ
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔