قوانین کی خلاف ورزی اسرائیل کی سلامتی میں مددگار نہیں، فرانس
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
فرانس کے نمائندے نے سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی اور امدادی کارکنوں کی سرگرمیوں کے لیے رکاوٹیں دور کرنی چاہئیں۔ اسلام ٹائمز۔ فرانس کے نمائندے نے سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی اور امدادی کارکنوں کی سرگرمیوں کے لیے رکاوٹیں دور کرنی چاہئیں۔ فارس نیوز کے مطابق، اقوام متحدہ میں فرانس کے نمائندے نیکولاس دو ریویر نے منگل کی شام غزہ میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں کی مذمت کی۔ دو ریویر نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اس کی سلامتی کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگی اور یہ خطے کے استحکام کو خطرے میں ڈالے گی۔
الجزیرہ نیوز چینل نے ان کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اسرائیل کا غزہ میں امداد پہنچانے کا طریقہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور یہ ضروریات کو پورا نہیں کرتا۔ اس فرانسیسی سفارتکار نے مزید کہا کہ ہم اسرائیل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی اور امدادی کارکنوں کی سرگرمیوں پر موجود رکاوٹوں کو ہٹائے۔ رپورٹ کے مطابق، دو ریویر نے مزید کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مشرق وسطی کا دورہ غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے پیشرفت میں مددگار ثابت ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہ اسرائیل کہا کہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :