رافیل تباہ کرکےبھارت کو شرمسار کرنےوالے جے 10 سی کا ہیومن ماڈل بناکر پاک فضائیہ کو منفرد خراج تحسین
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک)بھارت کا غرور خاک میں ملانے والی پاک فضائیہ کو مسلم انسٹیٹیوٹ نے شاندار خراج تحسین پیش کیا ہے۔
رافیل کو تباہ اور بھارت کو شرمسار کرنے والے طیارے جے 10 سی کا ہیومن ماڈل بنا دیا گیا۔
دربار سلطان باہو پر جذبہ حب الوطنی کا فقیدالمثال مظاہرہ کیا گیا، ہزاروں افراد نے مل کر افواج پاکستان کو خراج تحسین اور دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا۔
“پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ” کے نعروں سے فضا گونجتی رہی۔ چائنا، ترکیہ، آذربائیجان اور سعودی عرب سمیت پاکستان کا ساتھ دینے والے تمام ممالک کا شکریہ ادا کیا گیا۔
جے ٹین سی کے انسانی ماڈل کے ایک طرف شرکا “پاکستان زندہ باد” تو دوسری طرف “شکریہ چین، ترکیہ اور آذربائجان” کے سانچے میں خود کو سموئے ہوئے تھے۔
مزیدپڑھیں:ریلوے اسٹیشنز پر وائی فائی کی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔