جعلی اور غیر معیاری ادویات کے کیخلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا گیا، وزیر صحت نے کہا انسانی جانوں کو لاحق خطرہ اور عوامی اعتماد کو نقصان ناقابلِ قبول ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت وزارت صحت میں ایک اہم بین الصوبائی وزارتی اجلاس منعقد ہو ، اجلاس میں تمام صوبوں کے صوبائی وزرائے صحت اور چیف ایگزیکٹو آفیسر DRP شریک اور دیگر نمایندے بھی شریک ہوئے۔

اس کے علاوہ صوبائی وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر وزیر صحت سندھ عزرا افضل پیچوہو اور آزاد کشمیر کی ہیلتھ منسٹر نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کیلیے جاری اقدامات اور کوششوں کا جائزہ لیا گیا اور اہم فیصلے کئے گئے۔

ترجمان وزارت صحت نے بتایا کہ وفاق اور صوبوں نے عوام کی فلاح و بہبود کیلیے ملکر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، وزیر اعظم کی ہدایت پر وفاقی وزیر صحت کی قیادت میں بڑے پیمانے پر کارروائیوں کا آغاز کیا جارہا ہے۔

وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 19 مئی 2025 سے جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کا آغاز کیا جارہا ہے ، ملک گیر مہم کا آغاز “نیشنل ٹاسک فورس 2025 ” کی بحالی سے کیا گیا ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ یہ صرف ٹاسک فورس نہیں، ایک قومی ذمہ داری ہے، جعلی ادویات صرف ریگولیٹری مسئلہ نہیں، بلکہ ایک قومی ہنگامی صورتحال ہیں، انسانی جانوں کو لاحق خطرہ اور عوامی اعتماد کو نقصان ناقابلِ قبول ہے ، نسانی جانوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

انھوں نے کہا کہ 19 مئی سے ملک بھر میں وسیع انسپیکشنز اور نفاذی کارروائیاں دوبارہ شروع ہوں گی، وفاق، صوبے، کسٹمز، FIA اور دیگر ادارے مل کر مہم کو آگے بڑھائیں گے۔

وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ دوا ساز فیکٹریوں اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورکس کی سخت نگرانی کی جائے گی اور منصوبہ بندی کے تحت ملک بھر میں مارکیٹ سرویلنس، خفیہ شکایات پر چھاپے مارے جائیں گے۔

انھوں کی ہدایت کی قانون شکنی پر ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور شہریوں کو جعلی ادویات کی پہچان اور شکایت درج کرانے کے ٹولز فراہم کیے جائیں گے

مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈریپ ایک جدید موبائل ایپلیکیشن متعارف کروا رہا ہے، جو مختلف سہولیات فراہم کرے گی ، بارکوڈ اسکیننگ کے ذریعے ادویات کی فوری تصدیق جعلی یا اصلی سمیت مشتبہ جعلی مصنوعات کی رپورٹنگ کو یقینی بنایا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ادویات کی کمی یا منفی اثرات سے متعلق DRAP کو مطلع کیا جائے گا، یہ فیصلہ کن گھڑی ہے، واضح کریں گے کہ کون سی دوا شفا اور کون سی نقصان دیتی ہے۔

وزیر صحت کا کہنا تھا کہ عوامی شعور ہمارا سب سے طاقتور ہتھیار ہے، ہم صرف قانون کا نفاذ نہیں، بلکہ ہر فرد کو اپنی صحت کا محافظ بنا رہے ہیں، یہ مہم ضابطہ نہیں، ایک قومی تحریک ہے تمام شعبے اس میں شریک ہیں، جس میں حکومتی ادارے، نجی شعبہ، صحت کے ماہرین، فارماسسٹ، اور عوام سب شریک ہوں گے مصطفی کمال

انھوں نے کہا کہ ایسا نظام تشکیل دے رہے ہیں جہاں ہر گھر، کلینک، اور اسپتال میں موجود ہر دوا قابلِ بھروسہ ہو، ہمارے فیصلوں اور اقدامات سے انسانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں، یقینی بنایں گے ہماری ادویات شفا دیں، نقصان نہ پہنچائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: نے کہا کہ

پڑھیں:

سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد:

عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔

فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔

واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرولیم مصنوعات موبائل فون، انٹرنیٹ سروسز کے بعد ادویات بھی مہنگی ہونے کا خدشہ
  • الزاری جوزف کا پاکستان کیخلاف ٹیسٹ سیریز کیھلنے سے انکار، سیمی کا اظہار برہمی
  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ