آل راؤنڈر روسٹن چیز کو ویسٹ انڈیز ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کا نیا کپتان مقرر کر دیا گیا۔

ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ (CWI) کے مطابق وہ کریگ بریتھویٹ کی جگہ لیں گے جنہوں نے مارچ 2025 میں کپتانی سے استعفیٰ دیا تھا، جومیل واریکن کو نائب کپتان مقرر کیا گیا ہے۔

اسپن بولنگ آل راؤنڈر 33 سالہ روسٹن چیز کو ایک جامع انتخابی عمل کے بعد اس عہدے کے لیے منتخب کیا گیا۔ اس عمل میں نفسیاتی ٹیسٹنگ بھی شامل تھی تاکہ قیادت کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا سکے۔ دیگر امیدواروں میں جان کیمبل، ٹیون ایملاچ، جوشوا ڈا سلوا، جسٹن گریوز اور جومیل واریکن شامل تھے۔

ویسٹ انڈیز کے ہیڈ کوچ ڈیرن سیمی نے اس فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے نئے کپتان نے ساتھی کھلاڑیوں کا اعتماد حاصل کیا ہے، وہ اس ذمہ داری کو سمجھتے ہیں اور ان میں وہ قیادت کی خصوصیات ہیں جو ٹیم کو آگے لے جانے کے لیے ضروری ہیں۔

روسٹن چیز نے مارچ 2023 میں آخری ٹیسٹ میچ کھیلا تھا اور اب وہ 25 جون سے آسٹریلیا کے خلاف شروع ہونے والی تین میچوں کی ہوم سیریز میں بطور کپتان اپنے فرائض کا آغاز کریں گے۔

کریگ بریتھویٹ جنہوں نے مارچ 2021 میں کپتانی سنبھالی تھی، نے 39 ٹیسٹ میچوں میں ٹیم کی قیادت کی۔ ان کی قیادت میں ویسٹ انڈیز نے 2024 میں آسٹریلیا میں 27 سال بعد پہلی ٹیسٹ فتح حاصل کی اور 2025 میں پاکستان میں تاریخی فتح حاصل کی۔ ان کے استعفے کے بعد، شائی ہوپ کو وائٹ بال ٹیم (ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی) کی قیادت سونپی گئی ہے۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ویسٹ انڈیز روسٹن چیز

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی