ٹرمپ انتظامیہ نے بھارتی شہریوں پر زمین تنگ کردی، امریکا سے انخلا جاری
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
نیویارک: ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بھارتی شہریوں پر زمین تنگ کردی گئی، اور غیرقانونی بھارتی شہریوں کا انخلا جاری ہے۔
امریکی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ امریکی سرزمین پر قوانین کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی، اگر کوئی امریکا میں اپنے ویزا کی مقررہ مدت سے زیادہ قیام کرتا ہے، تو اس کو ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔
سفارتخانے نے کہا ہے کہ ایسے افراد کے لیے مستقبل میں امریکا کا سفر کرنے پر مستقل پابندی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکا میں 7.
2023 میں 51 ہزار بھارتیوں نے امریکا میں پناہ کی درخواست دی، اور گزشتہ 5 سال میں 470 فیصد اضافہ ہوا۔
مودی کے دور حکومت میں بھارت میں بے روزگاری خطرناک حدوں کو چھونے لگی، اپریل 2025 میں شرح 5.1 فیصد تک جا پہنچی، شہری علاقوں میں بے روزگاری 6.5 فیصد ہو چکی ہے، اور نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔
معاشی بدحالی اور بے روزگاری کے باعث بھارتی شہریوں کی امریکا ہجرت میں خطرناک حد تک اضافہ ہورہا ہے۔
Post Views: 5
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔