Islam Times:
2026-07-24@06:01:40 GMT

امریکی صدر کا دورہ خلیج فارس

اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT

‍‍‍‍‍‍

تجزیہ ایک ایسا پروگرام ہے جسمیں تازہ ترین مسائل کے بارے نوجوان نسل اور ماہر تجزیہ نگاروں کی رائے پیش کیجاتی ہے۔ آپکی رائے اور مفید تجاویز کا انتظار رہتا ہے۔ یہ پروگرام ہر اتوار کے روز اسلام ٹائمز پر نشر کیا جاتا ہے۔ متعلقہ فائیلیںتجزیہ انجم رضا کے ساتھ
موضوع: امریکی صدر کا سعودی عرب اورخلیج فارس کے ممالک کا دورہ
مہمان تجزیہ نگار:سید  راشد احد
میزبان و پیشکش: سید انجم رضا
تاریخ: 18 مئی 2025

موضوعات و سوالات:
1۔ صدر ٹرمپ کاخلیج فارس کے ممالک کا دورہ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
2۔ ٹرمپ نے ریاض میں کہا کہ ہم۔عرب ممالک کا ایران کے مقابلے میں دفاع کریں گے؛ سعودی عرب یا دیگر عرب ممالک کو ایران سے کیا خطرہ ہے؟
3۔ اس سفر میں ٹرمپ نے تقریبا اپنی کسی بھی گفتگو میں ایران کا ذکر ضرور کیا ؛ آپ کے خیال میں ایران ٹرمپ کے دماغ اور نفسیات پر سوار ہے؟
4۔ اس سفر میں جس طرح سعودی عرب میں ایم بی ایس کی میزبانی میں شام کے وانٹٹ دہشت گرد الجولانی کے ساتھ ٹرمپ نے گروپ فوٹو بنوایا اور اس کی خوش آمد گوئی کی، اس پر کیا کہیں گے؟
کیا یہ القاعدہ کے اتنے عرصے تک جہاد جہاد کے نعرے کی قلعی فاش نہیں ہو گئی؟
خلاصہ گفتگو و اہم نکات:
امریکہ کی  کنگ میکر لابی ز کا ٹرمپ کا دوبارہ اقتدار میں لانا ان کی ناکامی ہے
امریکہ میں  اس وقت  لیڈرشپ کرائسس ہے
امریکی تاریخ میں دو ٹرم والے صدر تو بہت مضبوط لیڈر رہے تھے
ٹرمپ ایک کمزور شخص اور  لیڈر شپ صلاحیت سے عاری صدر ہے
اس وقت امریکی پالیسیاں کینفیوژن اور الجھن  کا شکار نظر آتی ہیں
امریکہ کے لئے اپنا کھویا ہویا دبدبہ کی بحالی نامکمکن ہوتی جارہی ہے
دنیا میں طاقت او ر قوت کے مراکز بدلتے جارہے ہیں
امریکی صدر کے بڑبولے پن  نے کینیڈا  کو بھی ان سے دور کردیا ہے
ٹرمپ کو غزہ کے بحالی کے دعویٰ پہ بھی منہ کی کھانی پڑی
یوکرین اور کی جنگ میں شکست اور یمینوں سے جنگ بندی بھی امریکی ضعف کا کھُلا ثبوت ہے
جنوپی ایشیا میں جنگ چھڑواکر اور پھر ثالثی کا دعویٰ بھی امریکی بوکھلاہٹ کا اظہار ہے
امریکی صدر کا دورہ سعودی عرب و خلیجی امارات ایک تو اپنی مسلسل خفت مٹانے کی کوششیں ہیں
امریکی صدر  اسرائیل کو تسلیم کروانے کے لئے بھی سرگرم ِ عمل ہے
اس دورے میں ٹرمپ کا بار بار ایران کا ذکر کرنا بھی اس کے نفسیاتی ڈر اور خوف کا اظہار ہے
جمہوری اسلامی ایران پہ مسلسل الزام تراشیاں ٹرمپ کے  نامعقول سفارتی رویے کا اظہا ر ہے
ٹرمپ سمجھتا ہے کہ اپنی گیدڑ بھبکیوں سے ایران کو زیر کرلے گا
جمہوری اسلامی ایران کے اپنے ہمسایوں سے تعلقات پُر امن بقائے باہمی پہ قائم ہیں
عربوں نے جس بے حمیتی سے ٹرمپ کا استقبال کیا وہ بھی  شرمندگی کے قابل ہے
ٹرمپ کو  مہنگے ترین تحائف دینا بھی  مالِ مفت ، دلِ بے رحم کی مثال ہے
ٹرمپ کا یہ دورہ تجارتی اور کاروباری اغراض کے حصول کی جدوجہد  بھی ہے
پاک بھارت جنگ میں ثالثی کا بار بار ذکرکرکے انڈیا کے منہ بھی پہ خاک ملی ہے
مقاومت اور اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ امریکی سامراج کو دھول چٹوائی ہے
 اس وقت خطے کی اصل طاقت اسلامی جمہوری ایران اور مقاومت کی تحریکیں بن چکی ہیں
اسلامیہ جمہوری ایران اور رہبریت کے زیرسایہ مقاومت  نے امریکی بالا دستی کو ختم کردیا ہے
ٹرمپ  کا دورہ خطے میں  جمہوری اسلامی اثر رسوخ کا مقابلہ کرنے کی ناکام کوشش ثابت ہوا ہے
 
 
 
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امریکی صدر ہے ٹرمپ کا دورہ ٹرمپ کا

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل