خطے میں جنگ اور فساد کی جڑ صیہونی حکومت ہے، جسے اکھاڑ پھینکا جائیگا، خامنہ ای
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے الزام عائد کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا خطے میں امن کی بات کرنے والا بیان جھوٹ پر مبنی ہے، امریکی صدر نے اپنے خلیجی دورے کے دوران کہا تھا کہ وہ خطے میں امن چاہتے ہیں۔
نجی اخبار میں شائع برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق اس کے برعکس، خامنہ ای نے کہا کہ امریکا اپنی طاقت کا استعمال کرتا ہے تاکہ صیہونی (اسرائیلی) حکومت کو 10 ٹن وزنی بم دیے جا سکیں، جو وہ غزہ کے بچوں کے سروں پر گرا سکے۔
ٹرمپ نے جمعہ کے روز متحدہ عرب امارات سے روانگی کے بعد ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کو اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں امریکی تجویز پر جلد عمل کرنا ہوگا ورنہ ’کچھ برا ہونے والا ہے‘۔
خامنہ ای نے کہا کہ ٹرمپ کے ریمارکس اتنے بے وقعت ہیں کہ ان کا جواب دینا بھی مناسب نہیں، اس طرح کی باتیں، بولنے والے اور امریکی عوام دونوں کے لیے شرمندگی کا باعث ہیں۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق انہوں نے تہران میں ایک مذہبی مرکز کی تقریب میں کہا کہ بلاشبہ، اس خطے میں فساد، جنگ اور تنازع کی جڑ صیہونی حکومت ہے، ایک خطرناک، مہلک اور کینسر جیسا ٹیومر، جسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا، اور اسے اکھاڑا جائے گا۔
اس سے قبل ہفتے کے روز ایرانی صدر مسعود پزشکیاں نے تہران میں بحریہ کی ایک تقریب میں کہا تھا کہ ٹرمپ ایک طرف امن کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف دھمکیاں دیتے ہیں، ہم کس بات پر یقین کریں؟
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایک طرف وہ امن کی بات کرتے اور دوسری طرف جدید ترین ہتھیاروں سے قتل عام کی دھمکیاں دیتے ہیں، ایران جوہری مذاکرات جاری رکھے گا لیکن دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوگا، ہم جنگ نہیں چاہتے۔
اگرچہ ٹرمپ نے جمعہ کے روز کہا تھا کہ ایران کے پاس اس کے جوہری پروگرام سے متعلق ایک امریکی تجویز موجود ہے، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ تہران کو ایسی کوئی تجویز موصول نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی منظر نامہ نہیں، جس میں ایران اپنے پرامن مقاصد کے لیے محنت سے حاصل کردہ (یورینیم) افزودگی کے حق سے دستبردار ہو۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہا تھا کہ خامنہ ای کی بات کہا کہ
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔