مری میں شدید آندھی و طوفان، درخت اور بجلی کی تاریں گرنے سے نظام زندگی متاثر
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
ملکہ کوسار مری اور گردونواح میں شدید آندھی اور طوفانی بارش کے باعث نظامِ زندگی مفلوج ہو گیا۔ تیز ہواؤں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ کئی مقامات پر درخت جڑ سے اکھڑ کر سڑکوں پر آ گرے، جس سے آمد و رفت میں شدید رکاوٹ پیدا ہو گئی۔
طوفان کے باعث مری کے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو چکی ہے۔ کئی جگہوں پر بجلی کی تاریں گرنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جس سے مقامی آبادی کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ لوگ اندھیرے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ موبائل سگنلز اور دیگر سہولیات بھی متاثر ہو چکی ہیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں طوفان کے دوران درختوں کے گرنے اور تاروں کے ہلنے کے مناظر واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ بحالی کے کاموں میں تیزی لائی جائے اور صورتحال کو جلد از جلد معمول پر لایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔