مری میں شدید آندھی و طوفان، درخت اور بجلی کی تاریں گرنے سے نظام زندگی متاثر
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
ملکہ کوسار مری اور گردونواح میں شدید آندھی اور طوفانی بارش کے باعث نظامِ زندگی مفلوج ہو گیا۔ تیز ہواؤں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ کئی مقامات پر درخت جڑ سے اکھڑ کر سڑکوں پر آ گرے، جس سے آمد و رفت میں شدید رکاوٹ پیدا ہو گئی۔
طوفان کے باعث مری کے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو چکی ہے۔ کئی جگہوں پر بجلی کی تاریں گرنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جس سے مقامی آبادی کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ لوگ اندھیرے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ موبائل سگنلز اور دیگر سہولیات بھی متاثر ہو چکی ہیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں طوفان کے دوران درختوں کے گرنے اور تاروں کے ہلنے کے مناظر واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ بحالی کے کاموں میں تیزی لائی جائے اور صورتحال کو جلد از جلد معمول پر لایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔