امریکی اقدامات پر عمل درآمد یا اس میں مدد کرنے والی کسی بھی تنظیم یا فرد کو متعلقہ قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا ہوگا ،چینی وزارت تجارت
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
بیجنگ : امریکی محکمہ تجارت نے حال ہی میں امریکی برآمدی کنٹرول کی نام نہاد مبینہ خلاف ورزیوں کے بہانے عالمی سطح پر چین کی جدید کمپیوٹنگ چپس بشمول مخصوص ہواوے اسسینڈ چپس پر پابندی عائد کرنے کی کوشش میں رہنما خطوط جاری کیےہیں ۔ بدھ کے روز چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے کہا کہ یہ امریکی اقدامات یکطرفہ پسندی ، غنڈہ گردی اور تحفظ پسندی کی مثال ہیں، جو چینی کمپنیوں کے جائز حقوق و مفادات اور چین کے ترقیاتی حقوق کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں ۔ ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی اقدامات چینی کمپنیوں کے خلاف امتیازی پابندیاں عائد کرتے ہیں، لہذا کوئی بھی تنظیم یا فرد جو امریکی اقدامات پر عمل درآمد یا مدد کرے گا ، وہ چین کے انسداد غیر ملکی پابندیوں کے قانون سمیت دیگر قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو گا اور اس حوالے سے اسے متعلقہ قانونی کارروائیو ں کا سامنا کرنا ہو گا ۔ ترجمان نے کہا کہ چین امریکہ پر زور دیتا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے غلط طرز عمل کو درست کرکےسائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے حوالے سےدوسرے ممالک کے حقوق کا احترام کرے۔ان کا کہنا تھا کہ چین امریکی اقدامات پر عمل درآمد کا باریک بینی سے مشاہدہ کرےگا اور اپنے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام مضبوط اقدامات اٹھائےگا۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: امریکی اقدامات
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔