آئی ایم ایف کا قومی اسمبلی سے منظوری کے بغیر 344 ارب کے اضافی اخراجات پر تحفظات کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) آئی ایم ایف نے قومی اسمبلی سے منظوری کے بغیر مختلف دفاع، آئی پی پیز اور دیگر مدوں میں 344 ارب روپے کی گرانٹس دینے پر تحفظات کا اظہار کردیا۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے قومی اسمبلی سے منظوری کے بغیر ان اخراجات کو معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ وفاقی حکومت نے رواں مالی سال 344 ارب 64 کروڑ روپے اضافی خرچ کیے ہیں، بجلی کے شعبے میں آئی پی پیز کو 115 ارب روپے کی گرانٹ دی گئی، دفاعی اخراجات کے لیے 59 ارب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری طلب کی گئی۔ سندھ میں سیلاب متاثرین کے لیے 30 ارب روپے مختص کیے گئے، زرعی ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن کے لیے 14 ارب روپے جاری کیے گئے، انسداد دہشت گردی کے لیے فوج کو 23 ارب روپے کی گرانٹ دی گئی، ٹیکنالوجی اپ گریڈ کے لیے 2 ارب روپے کی منظوری لی جائے گی۔ اسی طرح ریکوڈک منصوبے کے لیے 3.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ارب روپے کی گرانٹ جاری کی کے لیے
پڑھیں:
چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیںمستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی
چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔