ایف بی آر کو نان فائلرز کو زبردستی رجسٹر کرنے کا اختیار مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
ایف بی آر کو نان فائلرز کو زبردستی رجسٹر کرنے کا اختیار مل گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 18 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) حکومت نے ایف بی آر کو نان فائلرز کو زبردستی رجسٹر کرنے کا اختیار دے دیا۔
وفاقی حکومت کی مالی تجاویز کو یکم جولائی 2025 سے نافذ العمل بنانے اور بعض قوانین میں ترمیم کے لیے منظور شدہ فنانس بل کے تحت ٹیکس نیٹ میں توسیع کے لیے سخت اقدامات متعارف کرادیے گئے ہیں۔
ان اقدامات کے تحت اگر کوئی شخص جو سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کا اہل ہے مگر رضاکارانہ طور پر رجسٹریشن نہیں کراتا تو ایف بی آر کا مجاز افسر یا کمشنر ان لینڈ ریونیو اپنی تحقیقات کی بنیاد پر ایسے شخص کو زبردستی رجسٹر کرے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ دو نئی شقیں 14AC اور 14AD شامل کی گئی ہیں جن کے مطابق نان فائلرز اور رجسٹریشن سے گریز کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق شق 14AC کے تحت کمشنر کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ کسی بھی غیر رجسٹرڈ فرد کے بینک اکاؤنٹس کو تحریری حکم نامے کے ذریعے بند کرا سکتا ہے اور رجسٹریشن کے بعد ہی یہ پابندی ختم کی جائے گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد ہائی کورٹ: گریڈ 22 میں ترقی سے متعلق ترامیم چیلنج، حکومت سے جواب طلب اسلام آباد ہائی کورٹ: گریڈ 22 میں ترقی سے متعلق ترامیم چیلنج، حکومت سے جواب طلب لوگوں کو انصاف دلائیں گے، پہلی ترجیح عوامی شکایات دُور کرنا ہے: چیف جسٹس راولپنڈی: نان کسٹم سگریٹ کے خلاف کارروائی، ایف بی آر ٹیم پر جان لیوا حملہ، مقدمہ درج پاکستان نے غزہ کی صورتحال کو انسانیت کے ضمیر پر دھبہ قرار دے دیا ایران میں اسرائیلی حملے سے شہادتوں کی تعداد 585 تک جا پہنچی، 1326 زخمی مودی نے ٹرمپ سے کہا ہے بھارت پاکستان سے تنازع پر کبھی ثالثی قبول نہیں کریگا، وکرم مسریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کو زبردستی رجسٹر نان فائلرز ایف بی آر
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں