data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

گوگل کی جانب سے یوٹیوب پر موجود ویڈیوز کو اپنے جدید مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈلز جیمنائی اور ویو 3 کو تربیت دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے

اور حیران کن طور پر، یہ سب کچھ ویڈیوز تیار کرنے والے بیشتر صارفین کی لاعلمی میں ہو رہا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گوگل نے یوٹیوب کی 30 ارب سے زائد ویڈیوز میں سے مخصوص مواد کو چن کر اے آئی ٹولز کی تربیت میں استعمال کیا ہے۔

یہ واضح نہیں کہ کن کن ویڈیوز کو اس مقصد کے لیے منتخب کیا گیا ہے، تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ یوٹیوب صارفین سے کیے گئے معاہدوں اور شرائط و ضوابط کی مکمل پاسداری کر رہی ہے۔ گوگل کے ترجمان کے مطابق، “ہم ہمیشہ یوٹیوب مواد کو اپنی مصنوعات کی بہتری کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اے آئی کے دور میں بھی یہ پالیسی برقرار ہے۔ ہم صارفین کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہیں اور اس مقصد کو مستقبل میں بھی مقدم رکھیں گے۔”

اس معاملے پر سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ صارفین کے پاس کوئی ایسا اختیار موجود نہیں جس کے ذریعے وہ یوٹیوب کو یہ اجازت دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کر سکیں کہ ان کی ویڈیوز اے آئی ماڈلز کو تربیت دینے کے لیے استعمال ہوں یا نہیں۔ یوٹیوب کے اصول و ضوابط کے مطابق، جب کوئی صارف اپنا مواد اپ لوڈ کرتا ہے تو وہ یوٹیوب کو اس مواد کے عالمی استعمال کا لائسنس دے دیتا ہے۔

متعدد صارفین اور کریئیٹرز اس پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں کہ ان کی ویڈیوز اور محنت سے تیار کردہ مواد ان ٹولز کو تربیت دے رہا ہے جو مستقبل میں خود ان کا متبادل بن سکتے ہیں یا ان کے ناظرین کا رخ کسی اے آئی تیارکردہ مواد کی طرف موڑ سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ گوگل قانونی دائرے میں کام کر رہا ہے، لیکن اخلاقی طور پر اس معاملے پر کھلی اور شفاف بحث کی ضرورت ہے تاکہ کریئیٹرز کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے استعمال اے ا ئی رہا ہے

پڑھیں:

ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار

اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔

سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فیس بک کا ٹک ٹاک کو ٹکر دینے کے لیے فل اسکرین ویڈیو فیڈ کا تجربہ
  • 100 روپے کا موبائل لوڈ کروانے پر اصل بیلنس کتنا ملتا ہے؟ ٹیکس کی مکمل تفصیل سامنے آگئی
  • Google سیلفی ویڈیو فیچر، اکاؤنٹ سائن اِن مزید محفوظ بنانے کا نیا طریقہ
  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار