40 ارب کا کوہستان سکینڈل خیبر پی کے حکومت کے دامن پر سیاہ دھبہ: عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
لاہور ( نوائے وقت رپورٹ) وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے خیبر پی کے میں سامنے آنے والے 40 ارب روپے کے کوہستان کرپشن سکینڈل کو صوبائی حکومت کے لیے ایک کلنک کا ٹیکہ قرار دیا ہے۔ یہ سکینڈل اس جعلی تبدیلی کے اصل چہرے کو بے نقاب کرتا ہے جس نے خود کو صادق و امین قرار دیا لیکن ثابت ہوا کہ وہ سرٹیفائیڈ کرپٹ ہے۔ خیبرپی کے کی عوام کا پیسہ اشتہاریوں اور مفروروں پر ضائع کیا جا رہا ہے اور کرپشن کی کمائی کو آپس میں بانٹا جا رہا ہے۔ "دودھ کی رکھوالی پر بلا بٹھانے کا نتیجہ یہی نکلنا تھا۔ کوہستان میگا کرپشن سکینڈل کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک سزا یافتہ قیدی جو 190 ملین پاؤنڈز کے کیس میں مجرم ہے، وہ بھی اس کرپشن پر پریشان دکھائی دیتا ہے – یہ اللہ کی شان ہے۔ خیبر پی کے میں گزشتہ 12 برس سے چور بازاری، بدعنوانی اور لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے۔ عوام کو صحت، تعلیم اور بنیادی انفراسٹرکچر جیسی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے جبکہ صوبائی حکومت کی تمام تر ہمدردیاں ایک قیدی کے ساتھ وابستہ ہیں، جو اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہے۔ عظمیٰ بخاری نے سوات میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ خیبر پی کے حکومت کی ناقص منصوبہ بندی اور ریسکیو سسٹم کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سیاح دو گھنٹے تک پانی میں مدد کے لیے پکارتے رہے، مگر کے پی حکومت کی کوئی ریسکیو ٹیم نہ پہنچ سکی۔ "حیرت کی بات ہے کہ نہ خیبرپختونخوا حکومت حرکت میں آئی اور نہ ہی وزیر گنڈاپور کا ہیلی کاپٹر امداد کے لیے روانہ ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: خیبر پی کے
پڑھیں:
’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء
پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز، 915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔