چینی صدر شی جن پنگ آئندہ ماہ برازیل میں ہونے والے برکس اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے، جو اگر درست ثابت ہوتا ہے تو ان کے 12 سالہ دورِ صدارت میں پہلی بار ہوگا کہ وہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کے اس گروپ کے اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔

ہانگ کانگ سے شائع ہونیوالے ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے متعدد ذرائع کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی ہے، جس کے مطابق، شی جن پنگ کی جگہ چینی وزیرِ اعظم اور ان کے قریبی ساتھی لی چیانگ اجلاس میں شریک ہوں گے، جو 6 اور 7 جولائی کو ریو ڈی جنیرو میں منعقد ہوگا۔ امکان ہے کہ اس اجلاس میں بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی بھی شرکت کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:

ریو ڈی جنیرو سے شائع ہونے والی مذکورہ رپورٹ کے مطابق، ایسی قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں کہ برکس اجلاس کے بعد برازیل کی جانب سے وزیرِ اعظم مودی کو ریاستی عشائیے کی دعوت دیے جانے کے فیصلے نے بیجنگ کے فیصلے پر اثر ڈالا ہو، کیونکہ ایسی صورت میں شی جن پنگ کو ایک ثانوی کردار میں دیکھا جا سکتا تھا۔

تاہم، چین نے برازیل کو بتایا ہے کہ شی جن پنگ مصروفیات کی بنا پر اجلاس میں شرکت نہیں کر سکیں گے، سفارتی ذرائع کے مطابق اس وقت بیجنگ کی توجہ زیادہ تر شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس پر مرکوز ہے، جس کی میزبانی چین اگست کے آخر یا ستمبر کے آغاز میں کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں:

برکس میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں، جبکہ حالیہ توسیع کے بعد اس میں مصر، ایتھوپیا، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

اگر شی جن پنگ اس اجلاس میں شریک نہیں ہوتے تو ان کی وزیرِ اعظم مودی سے ملاقات کا اگلا موقع ممکنہ طور پر چین میں منعقد ہونے والا ایس سی او اجلاس ہو سکتا ہے، بشرطیکہ نریندر مودی اس میں شریک ہوں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایتھوپیا ایران ایس سی او برازیل برکس بھارت جنوبی افریقہ چینی صدر روس ریو ڈی جنیرو ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ سعودی عرب شی جن پنگ متحدہ عرب امارات مصر نریندر مودی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایتھوپیا ایران ایس سی او برازیل بھارت جنوبی افریقہ چینی صدر ریو ڈی جنیرو ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ متحدہ عرب امارات اس میں شریک اجلاس میں

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان