کیا ‘بگ باس’ آسیب زدہ ہے؟ بھارتی ریئلٹی شو میں شرکت کرنے والے 7 لوگ جو جوانی میں چل بسے
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
ممبئی (شوبز ڈیسک)بھارتی ماڈل اور اداکارہ ہمانشی کھرانہ نے انڈیا کے کے مشہور ریئلٹی شو ‘بگ باس’ کو آسیب زدہ قرار دے دیا ہے، یہ بیان انہوں نے بگ باس سے شہرت پانے والی شیفالی جاریوالا کی 42 سال کی عمر میں وفات پانجانے کے بعد دیا۔
انہوں نے شیفالی جارِیوالا کے ساتھ اپنی تصویر شیئر کرتے ہوئے ایکس ہینڈل پر لکھا کہ مجھے لگتا ہے کہ بگ باس آسیب زدہ ہے۔
ان کے اس بیان کی بہت سارے دوسرے لوگوں نے تائید کی ہے اور کہا ہے کہ اس شو میں حصہ لینے والے 6 دوسرے لوگ ایسے ہیں جو نوجوانی میں جان سے گئے۔
سیدارتھ شُکلا
جاریوالا اور خرانہ کے ‘بگ باس 13’ کے شریک مقابل اور اس سیزن کے فاتح سیدارتھ شُکلا بھی دل کا دورہ پڑنے سے 2021 میں 40 سال کی عمر میں وفات پا گئے تھے۔
پراتیوشا بنرجی
ہندوستانی ٹی وی ستارہ اور ‘بگ باس 7’ کی شہرت یافتہ پراتیوشا بنرجی نے 2016 میں خودکشی کر لیں، اس وقت ان کی عمر صرف 24 سال کی تھیں۔
سوامی اوم
روحانی رہنما سوامی اوم جو ‘بگ باس 10’ میں اپنے متنازعہ حرکات کی وجہ سے مشہور ہوئے، 2021 میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے چند ماہ بعد وفات پا گئے۔
سونالی فوگٹ
بی جے پی رہنما اور سوشل میڈیا شخصیت سونالی فوگٹ، جنہوں نے ‘بگ باس’ کے سیزن 14 میں حصہ لیا، بھی دل کا دورہ پڑنے سے 42 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔
سوماداس چٹھنور
گلوکار سوماداس چٹھنور، جنہوں نے ‘بگ باس’ ملایلام میں حصہ لیا، 2021 میں کووڈ میں مبتلا ہونے کے بعد چل بسے۔
جے ایشری رمایہ
اداکارہ اور سابق ‘بگ باس’ کانٹیسٹنٹ جےایشری رمایہ نے 2020 میں خودکشی کر لی۔ ان کا جسم ایک بحالی مرکز میں لٹکا ہوا پایا گیا۔
مزیدپڑھیں:پاکستان کے کن شہروں کے سینکڑوں دیہات اب فور جی سروسز سے منسلک ہوں گے؟
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔