چین کا ایم-6، ایم-9 موٹرویز سمیت شاہراہوں و دیگر منصوبوں میں اظہار دلچسپی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
اسلام آباد:
چین نے پاکستان کے شعبہ مواصلات میں ایم-6 اور ایم-9 موٹرویز سمیت مانسہرہ، ناران، جھل کھنڈ شاہراہوں کی تعمیر اور شاہراہ قراقرم کی اپ گریڈیشن سمیت گوادر پورٹ، ائیرپورٹ اور دیگر منصوبوں میں سرمایہ کاری اور دو طرفہ تعاون کے لیے دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔
اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے ٹرانسپورٹ کے 12ویں اجلاس کے موقع پر وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور چینی وزیر ٹرانسپورٹ لیووی کے مابین تیانجن آمد پر ہونے والی غیر رسمی ملاقات میں سی پیک کے مغربی حصے، ای کامرس اور بھاشا ڈیم کی 2029 تک تکمیل سمیت مختلف امور پر گفتگو ہوئی۔
وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے چین کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مواصلات کی بہتری، تجارتی راہداریوں اور موٹرویز کو ترجیح دے رہا ہے۔
انہوں نے چین کے وزیر ٹرانسپوٹ لیووی کو پاکستان کے دورے کی با ضابطہ دعوت دی اور کہا کہ پاکستان ذرائع مواصلات کی بہتری کے لیےغیرملکی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرتا ہے اور مختلف شاہراہوں کی تعمیر کے لیے ’’بی ٹو بی اور جی ٹو جی‘‘ تعاون کو ترجیح دی جائے گی۔
چین کے وزیر ٹرانسپورٹ لیووی نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں پاکستان کی بھرپور شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کام کرنا چینی ماہرین اور انجینئرز کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سے چین کا تعلق دیرپا اور دو طرفہ تعاون پر مبنی ہے۔
ملاقات میں دونوں وزرا نے پاکستان کے وزیر اعظم کے اگست2025کے مجوزہ دورہ چین سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا اور بالخصوص ایس سی او کانفرنس میں وزرائے ٹرانسپورٹ کی شرکت اور مستقبل میں باہمی تعاون پر بات چیت ہوئی۔
خیال رہے کہ پاکستان کے علاوہ ایس سی او اجلاس میں بھارت، بیلاروس، ایران، قازقستان، کرغزستان، روس، تاجکستان، ازبکستان اور چین شرکت کر رہے ہیں اور تمام رکن ممالک کے وزرا کا باقاعدہ اجلاس ہوگا اور اعلامیہ جاری کیا جائےگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہا کہ پاکستان پاکستان کے
پڑھیں:
وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافہ اور معیشت کی مجموعی ترقی کے لئے شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لئے صنعت وحرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ صنعتی مصنوعات کی ملکی پیداور اضافے کے ساتھ ساتھ برآمدات بڑھانے کے لیے موٴثر پالیسی اقدامات حکومتی ترجیحات کا حصہ ہیں، صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات کا مقصد طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح ہونا چاہئے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو متبادل توانائی کے ذرائع سے پورا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر بھرپور انداز میں کام ہو رہا ہے، توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی مختلف شعبوں میں شمولیت کے لئے تمام وزارتیں اور ماہرین کی بامعنی مشاورت کو یقینی بنائیں، موثر ترقیاتی پالیسیز کی تشکیل و نفاذ کے لیۓ تمام وزراتیں باہمی تعاون اور ہم آہنگی سے کام کریں، تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سی مختلف زیر غور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر پاور ڈیویژن سردار اویس لغاری، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، کے معاون خصوصی ہارون اختر اور ڈائریکٹر جنرل ایس آئی ایف سی میجر جنرل اسد الرحمن چیمہ اور متعلقہ اداروں کے عہدے داران نے شرکت کی۔
مزید :