لکی مروت میں رات گئے پولیس کی کارروائی، انتہائی مطلوب 2دہشتگرد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
پشاور:
لکی مروت میں پولیس نے رات گئے اہم کارروائی کرتے ہوئے انتہائی مطلوب دو دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق دہشتگردوں کی شناخت بلال سکنہ ناورخیل اور آصف نواز ساکن کٹہرے خیل کے ناموں سے ہوئی جو لکی مروت پولیس کو متعدد سنگین مقدمات میں مطلوب تھے۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید کی فتنتہ الخوارج کے خلاف فیصلہ کن کارروائیوں کے احکامات پر صوبہ بھر کی پولیس طرح بنوں ریجن پولیس بھی ریجنل پولیس آفیسر بنوں سجاد خان کی قیادت میں سرگرم ہے۔ اسی سلسلے میں کی گئی ایک اہم کارروائی میں لکی مروت پولیس نے دو انتہائی بدنام دہشتگردوں کو گرفتار کیا ہے جو پولیس کو دہشتگردی کے مقدمات میں انتہائی مطلوب تھے۔
ایس ایچ او تھانہ شہباز خیل نے رات گئے خفیہ اطلاع پر تھانے کی حدود میں واقع گاؤں جھنگ خیل میں کامیاب کارروائی کی جس کے نتیجے میں علاقے میں موجود دو انتہائی مطلوب دہشتگردوں بلال سکنہ ناورخیل اور آصف نواز ساکن کٹہ خیل کو گرفتار کر لیا۔
دونوں دہشتگرد پولیس کو انتہائی سنگین مقدمات میں مطلوب ہیں جن کی گرفتاری کے لیے عرصہ دراز سے تگ ودو جاری تھی۔
ریجنل پولیس آفیسر بنوں سجاد خان نے ایس ایچ او تھانہ شہباز خیل شکیل خان و نفری کو دہشتگردوں کی گرفتاری پر شاباش دیتے ہوئے اسی بہترین کارکردگی کو جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لکی مروت پولیس دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے اور علاقے میں امن کے قیام تک جدوجہد جاری رکھے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انتہائی مطلوب لکی مروت
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔