ہتھنی نے حملہ کرکے نیوزی لینڈ اور برطانیہ کی سیاحوں کو مار ڈالا
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">لوساکا: افریقا کے ایک ملک زیمبیا کے معروف ساؤت لوانگوا نیشنل پارک میں ہتھنی نے حملہ کرکے 2 غیر ملکی خواتین سیاحوں کو مارڈالا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق علاقائی پولیس چیف رابرٹسن مویمبا نے بتایا ہے کہ ہتھنی کے حملے میں ہلاک ہونے والی خواتین سیاحوں کی شناخت برطانوی خاتون 68 سالہ ایسٹن ٹیلر اور نیوزی لینڈ کی 67 سالہ ایلیسن ٹیلر کے نام سے ہوئی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ دونوں خواتین ایک سیاحتی گروپ کے ساتھ پارک میں پیدل سیر کر رہی تھیں کہ اپنے بچے کے ساتھ موجود ایک مادہ ہاتھی نے انہیں پیچھے سے آکر کچل دیا۔
قریب ہی موجود گائیڈز نے فائرنگ کرکے ہتھنی کو روکنے کی کوشش بھی کی لیکن وہ ہتنھی کو روکنے میں ناکام رہے اور دونوں سیاح خواتین موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔
نیشنل پارک کی انتظامیہ نے سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ جنگلی حیات کا مشاہدہ کرتے وقت انتہائی احتیاط برتیں اور بالخصوص ایسی مادہ ہاتھیوں کے قریب بالکل نہ جائیں جن کے ساتھ ان کے بچے ہوں۔ حکام نے سیاحوں پر زور دیا ہے کہ وہ جانوروں کو خوراک نہ دیں اور ہمیشہ گائیڈز کی ہدایات پر عمل کریں تاکہ ایسے جان لیوا واقعات سے بچا جا سکے۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس بھی زیمبیا میں دو ضعیف المعر امریکی سیاح جو کہ سفاری گاریوں میں بیٹھے تھے الگ الگ واقعات میں ہاتھیوں کے حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔