روایتی پینلز سے ہزار گنا زیادہ مضبوط اور سولر پینل تیار
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
جاپان کے ماہرین نے دنیا کا پہلا ٹائٹینیئم پر مبنی سولر پینل تیار کر لیا ہے، جو ابتدائی معلومات کے مطابق توانائی کی تبدیلی (energy conversion) میں روایتی سلِیکون سولر پینلز کے مقابلے میں ہزار گنا زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی نے توانائی کے شعبے میں انقلاب کی امید جگا دی ہے۔
سلِیکون سولر پینلز کی حدود
سلِیکون طویل عرصے سے سولر پینلز کی تیاری میں مرکزی مواد کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے کیونکہ یہ نسبتاً سستا اور آسانی سے دستیاب ہے۔ تاہم جیسے جیسے دنیا میں توانائی کی مانگ بڑھ رہی ہے، سلِیکون کی صلاحیت اور جسمانی حدود اس کی کارکردگی کو محدود کر رہی ہیں۔ انہی وجوہات کی بنیاد پر متبادل مواد کی تلاش جاری تھی جو زیادہ پائیدار اور مؤثر توانائی فراہم کر سکے۔
ٹائٹینیئم کی صلاحیت
جاپانی سائنسدانوں نے کم وزن، زنگ کے خلاف مزاحم اور کیمیائی طور پر مستحکم خصوصیات کی بنیاد پر ٹائٹینیئم کا انتخاب کیا۔ اس میں اصل جدت ٹائٹینیئم ڈائی آکسائیڈ کو سیلینیم کے ساتھ خاص تہہ دار ساخت میں ملا کر روشنی کے جذب اور چارج کی منتقلی کے عمل کو مؤثر بنانا ہے، جس سے توانائی کی پیداوار کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
مہنگے عمل کو مؤثر بنانے میں کامیابی
ٹائٹینیئم کا ایک بڑا مسئلہ اس کی مہنگی صفائی (refining) کا عمل تھا کیونکہ اس میں آکسیجن کی مقدار کم کرنا مشکل اور مہنگا ہوتا ہے۔ تاہم ٹوکیو یونیورسٹی کے ماہرین نے ایک نیا طریقہ ایجاد کیا ہے جس میں ”یٹریم“ نامی نایاب دھات کے ذریعے ٹائٹینیئم میں موجود آکسیجن کی مقدار کو صرف 0.
پروفیسر تورو ایچ. اوکابے کہتے ہیں کہ ’ہم نے نایاب زمینی دھاتوں پر مبنی ایک جدید ٹیکنالوجی استعمال کی ہے جس کے ذریعے ہم ٹائٹینیئم سے آکسیجن کو انتہائی کم سطح پر لے آئے ہیں، جو اب تک ممکن نہ تھا۔‘
تکنیکی چیلنجز باقی ہیں
اگرچہ ٹائٹینیئم سولر پینل اپنی غیر معمولی کارکردگی کے باعث نمایاں ہو رہا ہے، تاہم یہ ٹیکنالوجی کچھ سنجیدہ تکنیکی چیلنجز سے بھی دوچار ہے۔ اگر یٹریم کا استعمال محتاط انداز میں نہ کیا جائے تو یہ پینل کی زنگ سے مزاحمت کو متاثر کر سکتا ہے، جو کہ اسے شدید ماحول جیسے صحرا یا خلا میں کمزور بنا سکتا ہے۔ ماہرین ان خطرات کو کم کرنے کے لیے یٹریم کے تناسب اور صفائی کے عمل کو مزید بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں۔
کمرشل پیداوار کا کوئی اعلان نہیں
فی الوقت یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا اس ٹیکنالوجی کو جلد کمرشل بنیادوں پر تیار کیا جائے گا یا نہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تحقیق عملی اور تجارتی سطح پر کامیاب ہوئی، تو یہ دنیا کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں انقلابی کردار ادا کر سکتی ہے۔
Post Views: 3
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: توانائی کی سولر پینل سل یکون
پڑھیں:
کینیڈا کے کثیر القومی کلچر کو بھارتی ڈانس کلچر کی یلغار کا سامنا، سماجی ماہرین نے خبردار کر دیا
کینیڈا کا روایتی، پرامن اور کثیر القومی کلچر اس وقت بھارتی امیگریشن اور ڈانس کلچر کی بے ہنگم یلغار کی زد میں ہے، جس پر سماجی ماہرین نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کینیڈین شناخت کے مٹنے کا خطرہ ظاہر کر دیا ہے۔
Canada has turned into an Indian colony!!!!
Canadians are now a minority in Toronto and the flood of immigrants is larger than ever before.
We cannot let this happen to us. Wake up!!!! pic.twitter.com/TIxnzuLeS7
— Știrile Rezistenței ???????? ???????? (@RomaniaMare1918) June 2, 2026
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ’رومانیا ماره 1918‘ نامی اکاؤنٹ سمیت متعدد حلقوں کی جانب سے جاری کردہ حقائق کے مطابق کینیڈا غیر ملکی امیگریشن، بالخصوص بے لگام بھارتی آبادی کے بوجھ تلے دب کر تیزی سے مسخ ہو رہا ہے۔ ٹورنٹو جیسے بڑے کینیڈین شہروں میں صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ وہاں کے اصل مقامی کینیڈین شہری اب اپنے ہی وطن میں اقلیت بن کر رہ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں خالصتان ریفرنڈم کی تیاریاں مکمل
اس بے ہنگم ثقافتی یلغار اور بھارتیوں کی حد سے بڑھتی ہوئی تعداد کو ملک کے لیے ایک بھیانک سماجی و آبادیاتی تبدیلی (ڈیموگرافک شفٹ) کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس نے کینیڈا کے امن کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے۔
کینیڈا کے لیے صرف بھارتی ثقافتی یلغار ہی دردِ سر نہیں، بلکہ کینیڈا میں مقیم بھارتی شہریوں اور سٹوڈنٹس کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ ہی ملک میں سنگین اسٹریٹ کرائمز، فراڈ، گینگ وار اور بدمعاشی کلچر میں ہولناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق کینیڈا کا پرامن معاشرہ اب بھارتی گینگز کی مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے عدم تحفظ کا شکار ہو چکا ہے۔
کینیڈا میں بسنے والے مظلوم سکھوں (خالصتان تحریک کے حامیوں) کے خلاف مودی سرکار کی ماورائے عدالت کارروائیوں اور ریاستی دہشت گردی نے کینیڈا کی خودمختاری پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ مودی حکومت کی شہ پر کینیڈین دھرتی پر سکھ رہنماؤں کو نشانہ بنانے اور ان کے خلاف بھارتی ایجنسیوں کے خفیہ نیٹ ورک اور ہتھکنڈوں نے کینیڈا کے سیکیورٹی اداروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
کینیڈا کی سرزمین پر بھارتی مداخلت اور سکھوں کے خلاف ان سفاکانہ کارروائیوں کے باعث ماضی میں کینیڈا اور بھارت کے سفارتی تعلقات شدید ترین پستی کا شکار ہوئے، سفارت کاروں کو ملک بدر کیا گیا اور دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں ایسی تلخی اور دوری پیدا ہوئی جو آج تک برقرار ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کینیڈین حکومت نے بھارتی یلغار، جرائم اور نئی دہلی کی ریاستی غنڈہ گردی کے خلاف اب بھی سخت ایکشن نہ لیا تو کینیڈا کی قومی شناخت اور امن ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت بھارتی کلچر ٹورنٹو کینیڈا