اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 08 جولائی 2025ء) گیارہ صفحات پر مشتمل قرارداد میں افغانستان میں اقتصادی بحالی، ترقی اور خوشحالی کے مواقع پیدا کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا ہے اور عطیہ دہندگان سے ملک کے سنگین انسانی اور معاشی بحران سے نمٹنے کی اپیل کی گئی ہے۔

افغانستان: انسانی حقوق پر طالبان حکمرانوں کے حملوں کا سلسلہ جاری

قرارداد کے حق میں 116 ووٹ پڑے، امریکہ اور اس کے قریبی اتحادی اسرائیل نے مخالفت کی جبکہ روس، چین، بھارت اور ایران سمیت 12 ملکوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

قرارداد پر عمل درآمد قانونی طور پر لازمی نہیں ہے لیکن اسے عالمی رائے کے عکاس کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

جرمنی، آئرلینڈ اور سویڈن کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ہدایات، سیکرٹری جنرل کی رپورٹس، اور اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کے جائزوں سے حاصل کردہ نتائج شامل ہیں۔

(جاری ہے)

طالبان کے ماتحت افغانستان کتنا ’محفوظ‘ ہے؟

اقوام متحدہ میں جرمنی کی سفیر انٹجے لینڈرسے نے ووٹنگ سے قبل اسمبلی کو بتایا کہ ان کا ملک اور بہت سے دوسرے لوگ افغانستان میں انسانی حقوق کی سنگین صورت حال، خاص طور پر طالبان کی طرف سے خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کو تقریباً مکمل طور پر ختم کیے جانے پر سخت تشویش میں مبتلا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قرارداد کا بنیادی پیغام افغان ماؤں، جو بیمار اور قلت تغذیہ کا شکاربچوں کو پالتی ہیں، یا دہشت گردی کے حملوں کا شکار ہونے والے سوگوار ہیں، ساتھ ہی لاکھوں افغان خواتین اور لڑکیاں جو گھروں میں بند ہیں، کو یہ بتانا ہے کہ انہیں فراموش نہیں کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ سن دو ہزار اکیس میں افغانستان میں اقتدار میں واپسی کے بعد سے، طالبان نے سخت اقدامات نافذ کیے ہیں، جن میں خواتین کو عوامی مقامات پر جانے اور چھٹی جماعت سے آگے کی لڑکیوں کے اسکول جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

امریکہ کو اعتراضات

امریکی مندوب جوناتھن شریئر نے اس قرارداد پر تنقید کی، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کو شک ہے کہ وہ (طالبان) ''بین الاقوامی برادری کی توقعات کے مطابق‘‘ پالیسیوں پر عمل پیرا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں تک ہم نے وقت، پیسے اور سب سے اہم امریکی جانوں کے ساتھ افغان عوام کی حمایت کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھایا۔

اب وقت آگیا ہے کہ طالبان آگے بڑھیں۔ امریکہ اب ان کے گھناؤنے رویے کا مزید بوجھ نہیں اٹھائے گا۔

افغانستان کے لیے امریکی امداد کی معطلی کا مطلب کیا؟

پچھلے مہینے، ٹرمپ انتظامیہ نے استشنائی معاملات کو چھوڑ کر، مستقل طور پر امریکہ میں دوبارہ آباد ہونے کی امید رکھنے والے افغانوں اور عارضی طور پر آنے کے خواہشمندوں پر پابندی لگا دی تھی۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے روس طالبان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا۔

قرارداد میں اور کیا ہے؟

قرارداد میں افغان مہاجرین کی میزبانی کرنے والی حکومتوں کی تعریف کی گئی ہے۔ اس حوالے سے ایران اور پاکستان کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے۔

قرارداد میں افغانستان کی مجموعی سلامتی کی صورت حال میں بہتری کو نوٹ کیا گیا ہے، تاہم القاعدہ اور اسلامک اسٹیٹ کے عسکریت پسندوں اور ان کے ساتھیوں کے حملوں کے بارے میں تشویش کا اعادہ کیا گیا ہے۔

قرارداد میں افغانستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ''تمام دہشت گرد تنظیموں سے یکساں طور پر اور بلا تفریق نمٹنے، ختم کرنے اور نیست و نابود کرنے کے لیے فعال اقدامات کرے۔‘‘

جنرل اسمبلی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریش کی بھی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ایک کوآرڈینیٹر کا تقرر کریں تاکہ افغانستان کے بارے میں اس کی بین الاقوامی مصروفیات کے لیے زیادہ مربوط اور منظم انداز میں سہولت فراہم کی جا سکے۔

ادارت: صلاح الدین زین

.

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے قرارداد میں افغان میں افغانستان اقوام متحدہ کیا گیا ہے

پڑھیں:

رہبر انقلاب کے خطاب کا متن

اسلام ٹائمز: اب وہ افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ ایرانی حکومت نے ایک مخصوص ملک کے ذریعے امریکہ کو پیغام بھیجا ہے۔ یہ سفید جھوٹ ہے، کیونکہ ایسی کوئی بات سرے موجود ہی نہیں۔ امریکی اپنے ہی دوستوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ یعنی وہ ان لوگوں کو بھی دھوکہ دیتے ہیں، جو انکے دوست ہیں۔ وہ مجرم صہیونی گروہ کی حمایت کرتے ہیں، جو مقبوضہ فلسطین پر حکومت کر رہا ہے۔ وہ تیل اور معدنی ذخائر کی خاطر دنیا میں کہیں بھی جنگ بھڑکانے کیلئے تیار ہیں اور آج یہ جنگ لاطینی امریکہ تک پہنچ چکی ہے۔ ایسی حکومت یقینی طور پر اس لائق نہیں ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس سے تعلقات اور تعاون کا خواہاں ہو۔ تدوین و تنظیم: علی واحدی

بسم الله الرّحمن الرّحیم
الحمد لله ربّ العالمین و الصّلاة و السّلام علی سیّدنا و نبیّنا ابی‌القاسم المصطفی محمّد و آله الطّیّبین الطّاهرین المعصومین سیّما بقیّة الله فی الارضین. 
میں ملت ایران کو سلام پیش کرتا ہوں۔ یہ ایام، عوامی رضاکار فورس بسیج سے متعلق ہیں۔ میں بسیج کے بارے میں ایک یا دو نکات بیان کرنا چاہتا تھا۔ میں بسیجی جوانوں کے درمیان یہ باتیں کہنا چاہتا تھا، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوسکا اور اب میں یہ باتیں ملت ایران کے سامنے بیان کر رہا ہوں۔ ایک دو نکات مغربی ایشیاء کے مسائل اور ملکی مسائل کے بارے میں بھی بیان کروں گا۔ سب سے پہلا نکتہ، جو میں بسیج کے بارے میں کہنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ ملک کے حکام ہر سال ان دنوں کی یاد منانے، بسیج کا ذکر کرنے اور اس کی تعریف و تمجید کا خود کو پابند کیوں سمجھتے ہیں۔؟ وجہ کیا ہے۔؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ بسیج کو نسل در نسل منتقل کرنا ہے اور اسے آگے بڑھانا ہے۔ بسیج ایک قابل قدر قومی تحریک ہے۔ بسیج کے مقاصد الہٰی بھی ہیں، وجدانی بھی ہیں اور غیرت و خود اعتمادی میں آمیختہ بھی۔

آج اللہ کا شکر ہے کہ بسیج ان خصوصیات کے ساتھ پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے، اور بسیج کی چوتھی نسل، یہ نوجوان جو ابھی اپنی عمر کو پہنچے ہیں، بسیج کے پیچیدہ مشن کو  آگے بڑھانے اور اسے آگے لے جانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں، جس کی وضاحت میں آگے چل کر کروں گا۔ یہ ملک کے لیے بہت بڑی دولت ہے۔ اسے ضائع نہیں کرنا چاہیئے؛ یہ دولت نسل در نسل ملک میں باقی رہنی چاہیئے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی، جن ممالک میں بھی، اگر ایسی کوئی تحریک موجود ہے، تو وہ ان کے لیے قیمتی، بہت اہم، مفید اور ضروری ہے۔ خاص طور پر ہمارے جیسے ملک کے لیے، جو کھل کر، عالمی غنڈوں اور درحقیقت بین الاقوامی بدمعاشوں کے مقابلے میں سینہ سپر ہے اور ڈٹا ہوا ہے اور اس نے ان کے خلاف ایک محاذ بھی بنا رکھا ہے، جسے "مزاحمتی محاذ" کہا جاتا ہے، ان خصوصیات کے حامل ہمارے جیسے ملک کو کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ بسیج فورس کی ضرورت ہے۔

دشمنیاں بھی زیادہ ہیں، لالچ بھی زیادہ، ملکوں میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت بھی بہت زیادہ ہے، لہذا اس ظلم و زیادتی اور استبداد کے خلاف مزاحمت کا عنصر دنیا میں موجود رہنا چاہیئے۔ آج یہ عنصر، (یعنی) مزاحمت کا عنصر، جو ایران میں قائم ہوا اور پروان چڑھا، پھیل چکا ہے، بڑھ چکا ہے اور دکھائی دے رہا ہے، اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ آج مغربی ممالک میں، یورپی ممالک اور خود امریکہ کی گلیوں میں مزاحمت کے حق میں نعرے لگائے جا رہے ہیں۔ غزہ کی مزاحمت اور فلسطین کی مزاحمت کے حق میں نعرے گونج رہے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ عظیم اور قابل قدر پیشرفت، جس کا آغاز ایران سے ہوا تھا، آہستہ آہستہ دنیا کے ایک بڑے حصے میں پھیل چکی ہے۔ یہ ضروری ہے؛ یہ اسی طرح قائم رہنی چاہیئے۔

یہ مبارک تحریک، بسیج کی یہ تحریک، مزاحمت کی یہ تحریک اپنی جائے پیدائش میں، جو کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہے، باقی رہنی چاہیئے۔ اسے نسل در نسل منتقل ہونا چاہیئے اور آگے بڑھنا چاہیئے اور دن بہ دن، ان شاء اللہ، اسے مضبوطی اور تکامل کی جانب گامزن رہنا چاہیئے۔ لہٰذا، ہمیں ہر سال بسیج کی پچھلے سال سے زیادہ تعریف اور تقدیر کرنی چاہیئے اور اسے اپنے ملک کے نوجوانوں میں، جو نوجوان ملک کے کام کے لیے تیار ہیں، فروغ دینا چاہیئے۔ بسیج زندہ رہے گی تو مزاحمت بھی زندہ رہے گی۔ اگر بسیج زندہ، توانا اور تازہ رہے گی تو بین الاقوامی غنڈوں کے خلاف، دنیا کے ظالموں کے خلاف، مزاحمت کا مظہر زندہ رہے گا، فروغ پائے گا اور دنیا کے مظلوم ڈھارس محسوس کریں گے۔ وہ محسوس کریں گے کہ کوئی ایسی طاقت ہے، جو ان کی حمایت کرتی ہے، ان کا دفاع کرتی ہے، ان کے حق میں بات کرتی ہے اور ان کی باتوں کو دنیا تک پہنچاتی ہے۔ یہ پہلا نکتہ ہے۔

دوسرا نکتہ بسیج کی شناخت کے بارے میں ہے۔ بسیج کا کیا مطلب ہے۔؟ بسیج کیا ہے۔؟ یہ سمجھنا بہت ضروری ہے۔ بسیج کا ایک سرکاری اور تنظیمی چہرہ ہے، جو اسلامی انقلابی گارڈ کور کا حصہ ہے۔ یہ چہرہ طاقت کا چہرہ بھی ہے اور خدمت کا چہرہ بھی۔ جہاں یہ دشمن کا سامنا ہو تو، یہ صحیح معنوں میں، ایک ایسی طاقت ہے، جو دشمن شکن ہے اور مضبوط ہے۔ جب یہ عوام کے درمیان آئے تو خادم ہے۔ زلزلوں میں، سیلابوں میں، قدرتی آفات میں، مختلف مسائل میں، آپ بسیج کو لوگوں کی خدمت کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ یہ بسیج کا باضابطہ چہرہ ہے، جو اسلامی انقلابی گارڈ کور کا حصہ ہے، اسی کی ایک فورس ہے؛ لیکن اس سرکاری اور ظاہری چہرے کے پیچھے ایک بہت وسیع اور قابل دید پس منظر ہے، جو ملک کے لیے بہت اہم ہے۔ ملک کا ہر غیور گروہ، پرجوش اور کام کے لیے آمادہ گروہ، اس رضاکار فورس بسیج کا حصہ ہے، جو بسیج کے اس ظاہری اور تنظیمی چہرے کی اساس ہے۔

وہ لوگ جو مختلف شعبوں میں سرگرم ہیں، محنتی اور متحرک ہیں، سائنس میں، صنعت میں، معیشت میں، یونیورسٹیوں میں، دینی مدارس میں، کاروبار میں، پیداوار میں، ہر جگہ، وہ تمام لوگ جو حوصلے، ایمان، لگن اور امید کے ساتھ کام کر رہے ہیں، درحقیقت اس بڑے اور وسیع موبلائزیشن بسیج کے رکن ہیں۔ بحمدللہ پورے ملک میں یہ نعمت موجود ہے۔ یہ ادارہ، جو بحمدللہ آج موجود ہے اور اسے باقی رہنا چاہیئے، دشمن کے منصوبے کا مقابلہ کرسکتا ہے اور اپنے جہادی کام سے دشمن کے منصوبے کو ناکام بنا سکتا ہے۔ چاہے فوجی میدان ہو، اقتصادی میدان ہو، پیداوار کا میدان ہو، سائنسی پیداوار ہو یا تکنیکی ترقی کا میدان اور اس طرح کے دیگر میدانوں میں۔

اس بارہ روزہ جنگ میں جتنے دانشور شہید ہوئے، وہ سب بسیجی تھے۔ وہ دراصل بسیج کا کام کر رہے تھے۔ وہ باضابطہ طور پر بسیج تنظیم کے رکن نہیں تھے، لیکن وہ واقعی بسیج کا حصہ تھے اور انہیں ایک خالص اور اہم بسیجی سمجھا جانا چاہیئے۔ فوجی سازوسامان بنانے والے بھی بسیجی ہیں۔ وہ جو میزائل یا دیگر دفاعی ہتھیار ڈیزائن کرتے ہیں، وہ جو انہیں بناتے ہیں، جو انہیں لانچ کرتے ہیں، جو اپنے اردگرد درجنوں خدمات فراہم کرتے ہیں، یہ سب بسیجی ہیں۔ اگرچہ وہ بسیج تنظیم کے رکن نہیں ہیں، لیکن وہ حقیقی معنی میں بسیجی ہیں۔ جس کے پاس مضبوط منطق، فصاحت و بلاغت اور فصیح زبان ہو اور دشمن کے شکوک و شبہات اور فتنوں کا مقابلہ کرتا ہو، بات کرتا ہو اور مسائل کو بیان کرتا ہو، وہ بھی بسیجی ہے۔ وہ بے لوث ڈاکٹر یا نرس جو جنگ کے دنوں میں ہسپتال سے گھر نہ جائے اور زخمیوں کی دیکھ بھال کرے، وہ بھی بسیجی ہے۔ کھیلوں کے چیمپیئن جو بین الاقوامی میدانوں میں لاکھوں لوگوں کے سامنے اپنے خدا، اپنے مذہب، اپنی قوم اور اپنے ملک سے اپنی عقیدت کا اظہار کریں، وہ بھی بسیجی ہیں۔

درحقیقت، اپنے وسیع معنی کے لحاظ سے بسیج میں یہ سب شامل ہیں۔ وہ ہمہ گیر بسیج جو امام خمینی کے پیش نظر تھی، ایسی ہی بسیج ہے، جو آج ہم دیکھ رہے ہیں اور امام خمینی بھی اپنے بسیجی ہونے پر فخر کرتے تھے۔ یہ بسیج کسی مخصوص طبقے سے مختص تھی اور نہ ہے بلکہ تمام نسلی گروہ، قوم کے تمام افراد اور ملک کے ہر پیشے اور طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ اس بسیج کا حصہ ہیں۔ اس بات سے میں جو نتیجہ اخذ کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ قومی طاقت کو بڑھانے کے لیے بسیج کو سراہا جانا چاہیئے، بسیج  کو مضبوط کرنا چاہیئے، بسیج کو آنے والی نسلوں تک پہنچانا چاہیئے، تاکہ ہر شخص بسیج کی برکات سے مستفید ہوسکے۔ حکومتی اداروں کو میرا مشورہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ بسیج کی طرح کام کریں، بسیج کے طور پر اپنا کام اور فرائض انجام دیں۔ بسیج کے حقیقی معنوں میں، انہیں بسیجی کے طور پر کام کرنا چاہیئے۔ یعنی ایمان، حوصلہ، ہمت اور بہادری کے ساتھ کام کرنا۔ یہ بات تھی بسیج سے متعلق مسائل کے بارے میں۔ 

لیکن میں علاقائی مسائل کے بارے میں بھی دو تین باتیں بیان کروں گا، جن کے بارے میں آپ روز ٹی وی پر کچھ نہ کچھ خبریں سنتے اور دیکھتے ہیں۔ پہلا نکتہ یہ ہے کہ ایرانی قوم نے بارہ روزہ جنگ میں امریکہ اور صیہونیوں دونوں کو شکست دی۔ اس میں کوئي شک نہیں ہے۔ وہ آئے، انہوں نے شرپسندی کی، مار کھائی اور وہ خالی ہاتھ لوٹ گئے۔ یہ حقیقی معنوں میں ان کی شکست ہے۔ ہاں، انہوں نے شرپسندی کی، لیکن وہ خالی ہاتھ واپس لوٹے۔ یعنی وہ اپنا کوئی مقصد حاصل نہیں کر پائے۔ کسی کے قول کے مطابق، صیہونی حکومت نے اس جنگ کے لیے بیس سال منصوبہ بندی اور تیاری کی تھی۔ بعض نے اسے اس طرح بیان کیا ہے۔ یعنی بیس سال تیاری کی تھی، تاکہ ایران میں جنگ چھڑیں اور لوگ مشتعل ہوں اور ان کے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف لڑیں، اس کے لیے منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ لیکن وہ خالی ہاتھ واپس  لوٹ گئے۔

حالات نے الٹا رخ اختیار کیا اور وہ ناکام ہوگئے اور وہ لوگ بھی، جو حکومت کے ساتھ نہیں تھے، انہوں نے بھی حکومت کا ساتھ دیا۔ ملک میں ایک عمومی اتحاد پیدا ہوا، جس کی تعریف کی جانی چاہیئے اور اسے برقرار رکھنا چاہیئے۔ البتہ، ہمارا نقصان  بھی ہوا، قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، اس میں کوئی شک نہیں۔ کیونکہ جنگ کی نوعیت ہی ایسی ہوتی ہے؛ قرآن شریف کی آیت میں ہے " فَیَقتُلونَ وَ یُقتَلون۔" یہ جنگ کی نوعیت ہوتی ہے، لیکن اسلامی جمہوری نظام نے ظاہر کیا کہ یہ "عزم" اور "طاقت" کا مرکز ہے۔ وہ خود فیصلے کرسکتا ہے، مضبوطی سے کھڑا ہوسکتا ہے اور کسی کے شور شرابے سے گھبرانے والا نہیں۔ دشمن کو پہنچنے والا مادی نقصان ہمارے ملک کو پہنچنے والے مادی نقصانات سے کہیں زیادہ ہے۔ یقیناً ہمارا بھی نقصان ہوا، لیکن جس نے حملہ کیا، اسے ہم سے کہیں زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اس بارہ روزہ جنگ میں امریکہ کو بھی بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ اس نے جدید ترین اور انتہائی ترقی یافتہ عسکری اور دفاعی ہتھیاروں کا استعمال کیا: اس نے اپنی آبدوزیں استعمال کیں، اس نے اپنے لڑاکا طیارے استعمال کیے، اس نے اپنے جدید ترین دفاعی نظام کا استعمال کیا، لیکن وہ حاصل نہیں کرسکا، جو وہ چاہتا تھا۔ وہ ایرانی قوم کو دھوکہ دینا چاہتا تھا، ایرانی قوم کو اپنے اپنے ساتھ ملانا چاہتا تھا، لیکن ہوا اس کے برعکس۔ جیسا کہ میں نے کہا، امریکہ کے خلاف ایرانی قوم کا اتحاد بڑھ گیا اور انہوں نے اسے ناکام بنا دیا۔ غزہ کی اس تباہی کے نتیجے میں، جو آج ہمارے خطے کی تاریخ کی اہم ترین سانحات میں سے ایک ہے، صیہونی حکومت بہت زیادہ رسوا اور بدنام ہوگئی ہے اور اس ذلت و رسوائی میں اس غاصب اور جابر حکومت کے ساتھ امریکہ بھی کھڑا ہے اور وہ بھی رسوا ہوا اور اسے بھی شدید نقصان پہنچا۔

دنیا کے لوگ جانتے ہیں کہ اگر امریکہ نہ ہوتا تو صیہونی حکومت میں اتنی تباہی پھیلانے کی طاقت نہ ہوتی۔ آج دنیا میں سب سے زیادہ  قابل نفرت شخص صیہونی حکومت کا سربراہ ہے۔ آج یہ شخص دنیا میں سب سے زیادہ قابل نفرت انسان ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ قابل نفرت گروہ اور حکمران ٹولہ صیہونی حکومت ہے اور اس لحاظ سے امریکہ بھی اسی کی صف میں کھڑا ہے اور یقیناً اس حکومت سے نفرت امریکہ تک پھیل چکی ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں امریکہ کی مداخلت بھی ان عوامل میں سے ایک ہے، جو امریکہ کو دنیا میں تیزی سے تنہا کر رہے ہیں۔ اگرچہ کچھ ممالک کے سربراہان اس کی چاپلوسی بھی کر رہے ہیں، لیکن قوموں کے درمیان امریکہ سے نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔ جہاں کہیں بھی اس نے مداخلت کی ہے، یا تو جنگ بھڑکی ہے، یا نسل کشی، یا تباہی اور  بربادی۔ یہ امریکہ کی مداخلت کے نتائج ہیں۔

امریکہ نے یوکرین میں تباہ کن جنگ شروع کی اور اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اس موجودہ امریکی صدر نے کہا تھا کہ وہ تین دن میں مسئلہ حل کر لیں گے۔ اب ایک سال گزرنے کے بعد وہ اس ملک پر زبردستی 28 نکاتی پلان مسلط کر رہے ہیں، جسے انہوں نے خود جنگ میں دھکیلا تھا۔ لبنان پر صیہونی حکومت کے حملے، شام پر اس کی جارحیت، مغربی کنارے اور غزہ میں اس کے جرائم، جن کا پوری دنیا مشاہدہ کر رہی ہے، یہ سب امریکہ کی پشت پناہی میں انجام پا رہے ہیں اور اس لحاظ سے بھی امریکہ کو حقیقیت میں نقصان اٹھانا پڑا ہے اور اس سے نفرت میں اضافہ ہوا ہے۔ اب وہ افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ ایرانی حکومت نے ایک مخصوص ملک کے ذریعے امریکہ کو پیغام بھیجا ہے۔ یہ سفید جھوٹ ہے، کیونکہ ایسی کوئی بات سرے موجود ہی نہیں۔

امریکی اپنے ہی دوستوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ یعنی وہ ان لوگوں کو بھی دھوکہ دیتے ہیں، جو ان کے دوست ہیں۔ وہ مجرم صہیونی گروہ کی حمایت کرتے ہیں، جو مقبوضہ فلسطین پر حکومت کر رہا ہے۔ وہ تیل اور معدنی ذخائر کی خاطر دنیا میں کہیں بھی جنگ بھڑکانے کے لیے تیار ہیں اور آج یہ جنگ لاطینی امریکہ تک پہنچ چکی ہے۔ ایسی حکومت یقینی طور پر اس لائق نہیں ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس سے تعلقات اور تعاون کا خواہاں ہو۔ اب میں اپنی قوم کے فرزندوں کو، ملت ایران کو چند نصیحتیں کرنا چاہوں گا: دشمن کے مقابلے میں آپ سب کو متحد ہونا چاہیئے۔ مختلف طبقات یا سیاسی دھڑوں میں اختلافات ہوسکتے ہیں، لیکن آئیے ہم سب مل کر دشمن کے خلاف ڈٹ جائيں، وہی کریں، جو ہم نے بارہ روزہ جنگ کے دوران کیا۔ یہ ہمارے پیارے ملک کے قومی اقتدار اعلي کے لیے ایک بہت اہم عنصر ہے۔

میری دوسری نصیحت یہ ہے: آئیے معزز صدر اور قوم کی خدمت گزار حکومت کا ساتھ دیں۔ انہوں نے اچھی کام شروع کیے ہیں۔ انہوں نے کچھ کام جنہیں شہید رئیسی نے شروع کیا تھا اور ادھورا چھوڑ دیا تھا، آگے بڑھایا ہے۔ یہ سلسلہ جاری رہے گا اور ان شاء اللہ عوام ان کا نتیجہ بعد میں دیکھیں گے۔ ہمیں حکومت کا ساتھ دینا چاہیئے۔ حکومت کے کندھوں پر بھاری بوجھ ہے۔ ملک پر حکومت کرنا آسان کام نہیں، مشکل کام ہے اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ میری اگلی نصحیت ہے کہ: آئیے ہم سب اسراف سے بچیں۔ پانی کا بے جا استعمال، روٹی کا بے جا استعمال، گیس کا بے جا استعمال، پٹرول کا بے جا استعمال، کھانے پینے کی اشیاء اور روزمرہ کی ضروریات کا بے جا استعمال۔

ہمیں فضول خرچی سے پرہیز کرنا چاہیے، کیونکہ ان چیزوں کا بے جا استعمال ملک اور ملت کو درپیش خطرات اور نقصانات میں سے ایک ہے اور اگر فضول خرچی نہ ہو، درحقیقت زندگی کے لیے ضروری عوام اور زندگی کے لیے ضروری چیزوں کو ضائع نہ کیا جائے تو ملک کی صورتحال اس سے کہیں زیادہ بہتر ہوسکتی ہے اور میری آخری نصیحت: خدا کے ساتھ اپنا تعلق بڑھائيں۔ اللہ تعالیٰ سے بارش، سلامتی، عافیت، ہر چیز کے لیے دعا مانگیں۔ خدا سے لو لگائيں، خدا سے حاجت طلب کریں، تضرع و زاری کے ساتھ اس کی بارگاہ میں حاضر ہوں۔ ان شاء اللہ، اللہ تعالیٰ تمام معاملات کو درست کرنے کی توفیق عطا فرمائے گا۔
والسّلام علیکم و رحمة‌ الله و‌ برکاته

متعلقہ مضامین

  • پاکستان اقوام متحدہ کی منظوری کے بعد فوجی دستے بھیجنے کو تیار، نائب وزیراعظم کا اعلان
  • یوم یکجہتی فلسطین یا خیانت کا عالمی دن
  • اقوام متحدہ نے افغان سرحد کی بندش کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی ہے: اسحاق ڈار
  • اقوامِ متحدہ نے افغان بارڈر کی بندش پر نظرثانی کی درخواست کردی، فیصلہ قیادت سے مشاورت کے بعد ہوگا: اسحاق ڈار
  • دنیا بھر میں آج فلسطینی عوام کیساتھ اظہارِ یکجہتی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے
  • غزہ کی بابت اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد (1)
  • 29 نومبر یومِ یکجہتیِ فلسطین یا خیات کا عالمی دن
  • سٹی کونسل کراچی میں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بیان کیخلاف میں قرارداد جمع
  • پاکستانیوں کو امارات کے ویزے نہ ملنے سے متعلق حکومت کی وضاحت سامنے آگئی
  • رہبر انقلاب کے خطاب کا متن