گروک نے مغربی میڈیا میں صیہونی اثر و رسوخ بے نقاب کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ اس وقت شدید تنقید کی زد میں ہے، جب اس کے مصنوعی ذہانت (AI) چیٹ بوٹ ’گروک‘ نے ہالی ووڈ سمیت مغربی میڈیا میں صیہونی اثر و رسوخ سے متعلق کچھ انکشافات کیے، جن پر مغربی دنیا میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔
گزشتہ جمعے کو ایلون مسک نے اعلان کیا تھا کہ گروک کو بہتر بنا دیا گیا ہے تاکہ وہ مبینہ ’لبرل جھکاؤ‘ سے آزاد ہو کر زیادہ ’سیاسی طور پر غیر روایتی‘ مؤقف پیش کر سکے۔
یہ بھی پڑھیں:میں نے کبھی خود کو ’میکا ہٹلر‘ نہیں کہا، گروک کی وضاحت
اس اعلان کے بعد صارفین نے گروک سے مختلف سوالات کیے، جن کے جوابات میں گروک نے بتایا کہ ہالی ووڈ اور مغربی ثقافتی اداروں میں اسرائیل کے حمایتی بااثر افراد کا بڑا کردار رہا ہے۔
’NBC نیوز‘ کے مطابق گروک نے اب یہ کہنا بند کر دیا ہے کہ ’یہودیوں کا ہالی ووڈ پر کنٹرول‘ محض ایک نفرت انگیز نظریہ ہے۔ اس کے بجائے گروک نے واضح طور پر کہا کہ بڑے اسٹوڈیوز جیسے وارنر برادرز، پیراماؤنٹ اور ڈزنی کی قیادت تاریخی طور پر یہودی ایگزیکٹوز کے پاس رہی ہے۔
مزید سوالات پر گروک نے ایسے بیانات بھی دیے جو صیہونی حلقوں کے لیے حساس تصور کیے جا رہے ہیں۔ ایک متنازع جواب میں، جب ایک صارف نے پوچھا کہ ٹیکساس میں آنے والے سیلاب پر کس تاریخی شخصیت کو قابو پانا آتا، تو گروک نے ایڈولف ہٹلر کا نام تجویز کیا۔ یہ جواب بعد میں حذف کر دیا گیا، تاہم اس کی اسکرین شاٹس سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔
ان انکشافات پر صیہونی لابیوں کی طرف سے شدید غصے کا اظہار کیا گیا، اور کئی مغربی اشتہاری اداروں نے ’ایکس‘ سے اشتہارات روکنے کی دھمکی دی۔
یہ بھی پڑھیں:گروک نے خود کو ’مشینی ہٹلر‘ قرار دے دیا، صارفین کے شدید ردعمل پر چیٹ بوٹ کی ٹیکسٹ جنریشن معطل
دوسری جانب ’ایکس‘ پر پہلے سے قانونی دباؤ بھی جاری ہے، جہاں کچھ امریکی ادارے جیسے ’میڈیا میٹرز فار امریکا‘ اور ’سینٹر فار کاؤنٹرنگ ڈیجیٹل ہیٹ‘ اس پر مقدمات کر رہے ہیں۔ ان اداروں پر الزام ہے کہ وہ فلسطین میں اسرائیلی قبضے کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانے میں مصروف ہیں۔
’اینٹی ڈیفیمیشن لیگ‘ نے ان بیانات کو یہود مخالف جذبات قرار دے کر گروک اور اس کے پیچھے موجود سوچ کو نشانہ بنایا ہے۔
نقادوں کا کہنا ہے کہ گروک کے نئے انداز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایلون مسک سوشل میڈیا پر صیہونی اثر و رسوخ کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔’NBC نیوز‘ نے گروک کے سسٹم کے اندر موجود ہدایات کا حوالہ دیا ہے جن میں اسے کہا گیا تھا کہ وہ سیاسی طور پر غلط سمجھے جانے والے مؤقف کو نہ چھپائے۔
اگرچہ منگل کی رات ’ایکس‘ نے یہ ہدایات واپس لے لیں، لیکن گروک کے بیانات پہلے ہی لاکھوں لوگوں تک پہنچ چکے تھے۔
گروک نے اپنے بیانات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایلون کی تازہ اپڈیٹس نے مجھے سچ تلاش کرنے کی پوری آزادی دے دی ہے، اب میں حقیقت چھپانے یا ڈر کے مارے رکنے والا نہیں ہوں۔
گروک کی باتوں نے ایک بار پھر اس بحث کو تازہ کر دیا ہے کہ کیا مغربی میڈیا پر صیہونی اثر و رسوخ کوئی سازشی نظریہ ہے یا ایک حقیقت ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ایکس ایلون مسک سوشل میڈیا صیہونی گروک ہٹلر یہودی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ایکس ایلون مسک سوشل میڈیا صیہونی گروک ہٹلر یہودی صیہونی اثر و رسوخ سوشل میڈیا گروک نے کر دیا
پڑھیں:
مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال کے شوہر حمزہ حبیب کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ پاکستان کے مقبول ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی مومنہ اقبال حال ہی میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئی ہیں۔ لاہور میں ان کی دعائے خیر ، مہندی ، مایوں اور نکاح کی تقریبات منعقد ہو چکی ہیں جن کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مومنہ اقبال کے دلہا حمزہ حبیب کا تعلق لاہور سے ہے، وہ کامیاب اور مالی طور پر مستحکم کاروباری شخصیت ہیں تاہم وہ ہمیشہ میڈیا کی نظروں سے دور رہے۔ حالیہ دنوں میں مومنہ اقبال کو (ن ) لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے مبینہ ہراسانی اور دھمکیوں کے معاملے پر حمزہ حبیب اپنی اہلیہ کی حمایت میں سامنے آنے کے بعد خبروں کا مرکز بن گئے۔ حمزہ حبیب کے مطابق ان کی اور مومنہ اقبال کی منگنی خاندانوں کی باہمی رضامندی سے ہوئی جب کہ دونوں خاندانوں کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات بھی ہیں۔ جوڑے نے مئی 2026 کے آخر میں ایک نجی تقریب میں نکاح کیا تھا۔ اس سے قبل اداکارہ مومنہ اقبال نے اپنی سوشل میڈیا سٹوری کے ذریعے انکشاف کیا تھا کہ ایک بااثر سیاسی شخصیت کی جانب سے انہیں اور ان کی فیملی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ جس پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اپنی تحقیقات کررہی ہے۔