غزہ میں صہیونی فوج کے وحشیانہ حملوں میں مزید 123فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
غزہ میں صہیونی فوج کے وحشیانہ حملوں میں مزید 123فلسطینی شہید WhatsAppFacebookTwitter 0 13 August, 2025 سب نیوز
غزہ (سب نیوز) صہیونی فوج کے وحشیانہ حملوں میں آج صبح سے اب تک 55 اور 24 گھنٹوں میں 123 فلسطینی شہید ہوگئے، جبکہ اس دوران بھوک سے تین بچوں سمیت مزید 8 فلسطینی شہید ہوگئے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ نے غزہ کی وزارت صحت کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں کم از کم 123 فلسطینی شہید اور 437 زخمی ہوئے ہیں، جن میں 22 امداد کے متلاشی افراد بھی شامل ہیں۔اسی مدت کے دوران تین بچوں سمیت کم از کم آٹھ افراد بھوک کی وجہ سے شہید ہوگئے، جس کے بعد بھوک سے ہونے والی شہادتوں کی مجموعی تعداد 235 ہو گئی ہے، جن میں 106 بچے شامل ہیں۔طبی ذرائع نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ صبح سے اب تک اسرائیلی فورسز کے حملوں میں غزہ بھر میں کم از کم 55 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔
نصیر میڈیکل کمپلیکس کے ذرائع کے مطابق شہید ہونے والوں میں 22 افراد امداد کی تلاش میں تھے، جن میں سے 13 کو رفح کے شمال میں ایک امدادی مرکز کے قریب اسرائیلی فورسز نے شہید کیا گیا۔ادھر، الجزیرہ کے نامہ نگار ہانی محمود کا کہنا ہے کہ غزہ میں انسانی بحران پیدا کرنے پر اسرائیل کی بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی مذمت کی جا رہی ہے، اور درجنوں ممالک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر امداد کی فراہمی کی اجازت دے اور قحط کا خاتمہ کرے۔انہوں نے کہا کہ لیکن اس دبا سے زمینی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور ہم غزہ پر مزید پابندیاں اور اسرائیلی فوج کی مزید چالیں دیکھ رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے چند امدادی ٹرکوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت دی تاکہ یہ تاثر پیدا ہو کہ خوراک آرہی ہے، لیکن اس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں، لوگ اب بھی روزانہ کی بنیاد پر جبری بھوک سے شہید ہو رہے ہیں۔فیلڈ میں کام کرنے والے لوگ بتا رہے ہیں کہ گزشتہ پانچ مہینوں میں اسرائیل کی مکمل انسانی پابندی کے باعث خوراک کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کم از کم تین ماہ تک روزانہ ایک ہزار ٹرکوں کے مستقل داخلے کی ضرورت ہے۔اس لیے درجنوں کی تعداد میں آنے والے ٹرک اس بگڑتے ہوئے انسانی بحران کا حل نہیں ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرباجوڑ میں آپریشن شروع ہوچکا، یہ آپریشنز خیبرپختونخوا کی معدنیات پر قبضے کیلئے ہو رہے ہیں، رہنما پی ٹی آئی اسد قیصر اگلی خبراسلام آباد میں معرکہ حق اور جشن آزادی کی تقریب جاری، سول و عسکری قیادت شریک اسلام آباد میں معرکہ حق اور جشن آزادی کی تقریب جاری، سول و عسکری قیادت شریک باجوڑ میں آپریشن شروع ہوچکا، یہ آپریشنز خیبرپختونخوا کی معدنیات پر قبضے کیلئے ہو رہے ہیں، رہنما پی ٹی آئی اسد قیصر پاکستان کے اندر حقیقی آزادی کی جنگ سمیت ابھی کئی جنگیں لڑنی ہیں، علی امین گنڈاپور کا پیغام اقتصادی رابطہ کمیٹی اجلاس، اسٹیل ملز کی 32سو ایکڑ زمین پر انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کرنیکی منظوری غزہ میں فلسطینیوں کیساتھ جنسی زیادتی پر اسرائیلی فوج کی نگرانی کی جائے، اقوام متحدہ پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ پر 50لاکھ تک جرمانہ، قومی اسمبلی سے بل منظورCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: حملوں میں
پڑھیں:
شہدا ء کا مقام اور فضیلت
جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔
ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔
1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔
اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔
احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔