غذر، ایک ہی خاندان کے 6 افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
ضلعی انتظامیہ کے مطابق سیلابی ریلوں سے غذر میں مجموعی طور پر 8 اموات ہوئیں، خلتی میں 10 گھر جبکہ دائین میں 70 مکانات سیلابی ریلے کی زد میں آئے، دائین کا معلق پل سیلاب میں بہنے سے علاقے کا زمینی رابطہ منقتع ہوکر رہ گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سیلاب نے تباہی مچادی، گوپس کے گاوں خلتی میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔ ذرائع کے مطابق سیلابی ریلے میں بہنے والے 2 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں، ایک بچے کو زندہ بچا لیا گیا جبکہ دیگر 3 افراد کی تلاش جاری ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق سیلابی ریلوں سے غذر میں مجموعی طور پر 8 اموات ہوئیں، خلتی میں 10 گھر جبکہ دائین میں 70 مکانات سیلابی ریلے کی زد میں آئے، دائین کا معلق پل سیلاب میں بہنے سے علاقے کا زمینی رابطہ منقتع ہوکر رہ گیا ہے۔
غذر کے علاقے دائین میں بلور نامی 70 سالہ شخص سیلابی ریلے کی زد میں اکر جان بحق ہوا جبکہ سات سالہ بچی لاپتہ ہے، چٹورکھنڈ اور دائین سے آنے والے سیلابی ریلے نے دریائے اشکومن کا بہاو روک دیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دریا کا بہاو رکنے سے منصوعی جھیل بن گئی ہے، دریائے اشکومن پر بننے والی جھیل کسی بھی وقت پھٹ سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سیلابی ریلے
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان