Islam Times:
2026-07-24@13:40:18 GMT

غذر، ایک ہی خاندان کے 6 افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے

اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT

غذر، ایک ہی خاندان کے 6 افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے

ضلعی انتظامیہ کے مطابق سیلابی ریلوں سے غذر میں مجموعی طور پر 8 اموات ہوئیں، خلتی میں 10 گھر جبکہ دائین میں 70 مکانات سیلابی ریلے کی زد میں آئے، دائین کا معلق پل سیلاب میں بہنے سے علاقے کا زمینی رابطہ منقتع ہوکر رہ گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سیلاب نے تباہی مچادی، گوپس کے گاوں خلتی میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔ ذرائع کے مطابق سیلابی ریلے میں بہنے والے 2 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں، ایک بچے کو زندہ بچا لیا گیا جبکہ دیگر 3 افراد کی تلاش جاری ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق سیلابی ریلوں سے غذر میں مجموعی طور پر 8 اموات ہوئیں، خلتی میں 10 گھر جبکہ دائین میں 70 مکانات سیلابی ریلے کی زد میں آئے، دائین کا معلق پل سیلاب میں بہنے سے علاقے کا زمینی رابطہ منقتع ہوکر رہ گیا ہے۔

غذر کے علاقے دائین میں بلور نامی 70 سالہ شخص سیلابی ریلے کی زد میں اکر جان بحق ہوا جبکہ سات سالہ بچی لاپتہ ہے، چٹورکھنڈ اور دائین سے آنے والے سیلابی ریلے نے دریائے اشکومن کا بہاو روک دیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دریا کا بہاو رکنے سے منصوعی جھیل بن گئی ہے، دریائے اشکومن پر بننے والی جھیل کسی بھی وقت پھٹ سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سیلابی ریلے

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
  • آسام میں سیلاب سے 50 افراد ہلاک، 7 لاکھ بےگھر
  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان