مس یونیورس میں حصہ لینے کے لیے فلسطین کی پہلی حسینہ میدان میں آگئی
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
خوبصورتی کے عالمی مقابلے مس یونیورس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ فلسطین اپنی نمائندہ کے ساتھ اسٹیج پر آئےگا۔ فلسطینی نژاد اور متحدہ عرب امارات میں مقیم حسینہ نادین ایوب رواں سال نومبر میں منعقد ہونے والے اس مقابلے میں شریک ہوں گی۔
نادین ایوب نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو اور پیغام میں اپنے انتخاب کی تصدیق کی اور کہاکہ وہ اس عالمی ایونٹ کو اپنے وطن کے مسائل دنیا کے سامنے رکھنے کا ذریعہ بنائیں گی۔
View this post on Instagram
A post shared by Nadeen Ayoub (@nadeen.
یہ بھی پڑھیں: دبئی میں بطور ویٹرس کام کرنے والی لڑکی مس یونیورس فلپائنز 2025 کی امیدوار کیسے بنی؟
انہوں نے بتایا کہ وہ مقابلے میں فلسطینی ڈیزائنر ہبا عبدالکریم کا تیار کردہ روایتی لباس پہنیں گی، جس پر قومی رنگ اور نفیس کشیدہ کاری نمایاں ہے۔
تھائی لینڈ کے شہر پاک کریت میں نومبر کو ہونے والے 73ویں سالانہ مس یونیورس مقابلے میں شرکت کو نادین نے اپنے لیے اعزاز قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ان کا ملک خاص طور پر غزہ شدید بحران سے گزر رہا ہے، وہ ایسے عوام کی آواز ہیں جو خاموشی اختیار کرنے پر تیار نہیں۔ وہ ہر اس فلسطینی عورت اور بچے کی نمائندہ ہیں جن کی ہمت اور عزم دنیا کو دکھایا جانا ضروری ہے۔
نادین ایوب نے کہاکہ ہم صرف اپنے زخم نہیں بلکہ اپنی امید، حوصلے اور اس دھڑکتے دل کے وارث ہیں جو ہمارے وطن کو زندہ رکھتا ہے۔ ’ان کی شرکت اس موقع پر ہو رہی ہے جب غزہ میں 22 ماہ سے جاری جنگ نے انسانی بحران کو بدترین شکل دے دی ہے۔‘
اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد سے بھوک اور غذائی قلت کی سطح بلند ترین مقام پر پہنچ چکی ہے، اور کم از کم 100 ٹرک روزانہ خوراک غزہ میں داخل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق غذائی قلت سے اب تک 239 افراد، جن میں 106 بچے شامل ہیں، جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
نادین ایوب کا پس منظر
یافا سے تعلق رکھنے والی 27 سالہ نادین نے بچپن مغربی کنارے، کینیڈا اور امریکا میں گزارا۔ انہوں نے کینیڈا کی یونیورسٹی آف ویسٹرن اونٹاریو سے ادب اور نفسیات میں ڈگری حاصل کی اور فی الحال فٹنس کوچ اور غذائیت کی ماہر کے طور پر کام کر رہی ہیں۔
سنہ 2022 میں مس فلسطین کا تاج اپنے نام کرنے کے بعد نادین نے فلپائن میں منعقدہ مس ارتھ مقابلے میں فلسطین کی نمائندگی کی، جہاں وہ ٹاپ فائیو میں شامل ہوئیں اور مس واٹر 2022 کا اعزاز جیتا۔
View this post on Instagram
A post shared by Nadeen Ayoub (@nadeen.m.ayoub)
وہ انسانی حقوق اور ماحولیاتی تحفظ کی سرگرم کارکن بھی ہیں۔ دبئی میں انہوں نے اولِو گرین اکیڈمی قائم کی، جو متحدہ عرب امارات میں خواتین کو پائیداری اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تربیت فراہم کرنے والا پہلا ادارہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’مس یونیورس 2024‘، دنیا کی سب سے خوبصورت دوشیزہ کس ملک سے ہیں؟
نادین سیداتِ فلسطین نامی پلیٹ فارم کے ساتھ بھی منسلک ہیں، جو خواتین کو تعلیم اور بااختیار بنانے کے پروگرام چلاتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پہلی حسینہ فلسطین مس یونیورس مقابلہ وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پہلی حسینہ فلسطین مس یونیورس مقابلہ وی نیوز نادین ایوب مقابلے میں مس یونیورس
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
فیفا ورلڈکپ 2026 نے باضابطہ طور پر تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ٹورنامنٹ کا اعزاز حاصل کر لیا ہے جہاں پہلی بار 48 ٹیمیں اور مجموعی طور پر 1248 کھلاڑی میدان میں اتریں گے۔
12 جون سے شروع ہونے والا یہ میگا ایونٹ امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں کھیلا جائے گا جو ورلڈکپ کی تاریخ میں پہلی بار تین ممالک میں منعقد ہو رہا ہے۔
اس بار ٹورنامنٹ کا فارمیٹ بھی پہلے سے بالکل مختلف ہے جہاں 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ میں 4 ٹیمیں شامل ہوں گی۔
مجموعی طور پر 104 میچز کھیلے جائیں گے جس سے ایونٹ مزید طویل اور سنسنی خیز ہونے کی توقع ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس ورلڈکپ میں شامل 1248 کھلاڑیوں میں سے 357 ایسے ہیں جو پہلے بھی عالمی کپ کھیل چکے ہیں جبکہ 891 کھلاڑی پہلی بار اس بڑے اسٹیج پر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائیں گے۔
مزید پڑھیںفیفا ورلڈکپ 2026 میں کیا نئی چیزیں متعارف ہوں گی؟
فیفا ورلڈکپ: میسی مسلسل چھٹے ورلڈکپ میں ارجنٹینا کی نمائندگی کیلیے تیار
فٹبال کے بڑے نام ایک بار پھر ایکشن میں ہوں گے جن میں لیونل میسی، کرسٹیانو رونالڈو اور گیلرمو اوچوا شامل ہیں جو چھٹی مرتبہ ورلڈکپ کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار چار نئے ممالک کیپ ورڈے، کوراساؤ، اردن اور ازبکستان پہلی بار ورلڈکپ کا حصہ بن رہے ہیں جس سے مقابلہ مزید غیر متوقع ہو گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس ایونٹ میں سب سے کم عمر کھلاڑی صرف 17 سال کا ہوگا جبکہ سب سے عمر رسیدہ کھلاڑی 43 سال کی عمر میں میدان میں اترے گا۔
مجموعی اسکواڈ میں 7 کھلاڑی 40 سال سے زائد عمر کے ہیں جبکہ 22 انڈر 20 پلیئرز بھی اپنی ٹیموں کی نمائندگی کریں گے۔
فیفا ورلڈکپ 2026 نہ صرف تعداد کے لحاظ سے سب سے بڑا ایونٹ بن چکا ہے بلکہ یہ فٹبال کی تاریخ میں ایک نئے دور کے آغاز کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔