Daily Sub News:
2026-07-24@07:50:00 GMT

افواج پاکستان: ہر آفت میں شانہ بشانہ

اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT

افواج پاکستان: ہر آفت میں شانہ بشانہ

افواج پاکستان: ہر آفت میں شانہ بشانہ WhatsAppFacebookTwitter 0 16 August, 2025 سب نیوز

تحریر: محمد محسن اقبال


قوموں کی زندگی میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں، اور اکثر فطرت کی طرف سے ملنے والے امتحان سب سے سخت ثابت ہوتے ہیں۔ ان لمحات میں صبر، حوصلہ اور اتحاد ہی ایک قوم کی اصل قوت کو ظاہر کرتے ہیں۔ پاکستان نے اپنی تاریخ میں بے شمار قدرتی آفات کا سامنا کیا ہے جنہوں نے عوام کے صبر اور استقامت کو آزمایا۔ لیکن ہر بار اس دھرتی کے لوگ اپنی مسلح افواج کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہوئے۔ چاہے جنگ کا میدان ہو یا قدرتی آفات کا وقت، پاکستان آرمی نے کبھی قربانی دینے میں ہچکچاہٹ نہیں دکھائی اور ہمیشہ ریلیف اور ریسکیو کے محاذ پر سب سے آگے رہی ہے۔


اس بار صوبہ خیبر پختونخواہ کو ہولناک سیلاب نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس سے قیمتی جانوں اور املاک کا بے پناہ نقصان ہوا۔ بستیاں بہہ گئیں، رابطے منقطع ہوگئے اور بے شمار خاندان بے یار و مددگار رہ گئے۔ لیکن ہمیشہ کی طرح پاکستان آرمی فوراً متاثرہ عوام کے پاس پہنچی اور شانہ بشانہ کھڑی ہوگئی۔ خدمت اور قربانی کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے وفاقی و صوبائی حکومتیں اور بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی متحرک ہوئے اور اپنی بساط کے مطابق وسائل فراہم کرنے لگے۔


آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خیبر پختونخوا کے سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے خصوصی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ علاقے میں تعینات افواج متاثرین کو بھرپور سہولت فراہم کریں گی اور ریلیف آپریشن کو مزید تیز کرنے کے لیے اضافی دستے بھیجے جائیں گے۔ یکجہتی کے ایک مظہر کے طور پر پوری پاک فوج نے اپنی ایک روزہ تنخواہ متاثرین کی بحالی کے لیے عطیہ کی۔ اس کے علاوہ فوج نے اپنے ذاتی ذخائر سے 600 ٹن سے زیادہ راشن مختص کیا تاکہ متاثرہ آبادی کو فوری سہارا دیا جاسکے۔


آرمی چیف نے کور آف انجینئرز کو بھی ہدایت دی کہ تباہ شدہ پلوں کی مرمت تیز کی جائے اور ضرورت پڑنے پر عارضی ڈھانچے قائم کیے جائیں تاکہ رابطہ بحال ہوسکے۔ فوج کے خصوصی یونٹ جیسے اسنیفنگ ڈاگ یونٹ اور اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم متاثرین کو تلاش کرنے اور انخلا میں مصروف ہیں۔ آرمی ایوی ایشن کور کے ہیلی کاپٹرز خوراک پہنچانے اور پھنسے ہوئے خاندانوں کو نکالنے میں سرگرم ہیں۔ ہر محاذ پر پاکستان آرمی نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف سرحدوں کی محافظ ہے بلکہ مشکل گھڑی میں اپنے عوام کی بھی سچی نگہبان ہے۔


قدرتی آفات، اگرچہ تکلیف دہ ہوتی ہیں، مگر یہ ہمیں زندگی کی ناپائیداری اور باہمی یکجہتی کی اہمیت یاد دلاتی ہیں۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: ”اور ہم تمہیں ضرور خوف، بھوک، مال و جان اور خوراک کی کمی سے آزمائیں گے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔ وہ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں، بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔” (البقرہ 2:155ـ156)۔ یہ آیات دلوں کو سکون دیتی ہیں اور یاد دلاتی ہیں کہ آزمائش میں صبر و استقامت پر ربانی انعام ہے۔ نبی کریم ۖ نے فرمایا: ”مؤمن آپس میں محبت، مہربانی اور ہمدردی میں ایک جسم کی مانند ہیں، جب اس کا ایک عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو پورا جسم بے خوابی اور بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے۔” (صحیح بخاری و صحیح مسلم)۔ پاکستان کی اجتماعی جدوجہد اسی روحِ اتحاد اور ہمدردی کی گواہی ہے۔


تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ پاکستان اس سے کہیں بڑی آفات کا سامنا کرچکا ہے۔ 8 اکتوبر 2005 کو آنے والے زلزلے نے کشمیر اور شمالی پاکستان میں 80 ہزار سے زائد جانیں لے لیں اور لاکھوں افراد کو بے گھر کردیا۔ قوم غم و دکھ میں متحد ہوئی اور افواجِ پاکستان سمیت ہر گوشے سے رضاکار متاثرین کی مدد کو پہنچے۔ 2010 کے تباہ کن سیلاب کو اقوامِ متحدہ نے جدید تاریخ کا بدترین انسانی المیہ قرار دیا، جب ملک کا پانچواں حصہ زیرِ آب آگیا اور تقریباً دو کروڑ لوگ متاثر ہوئے۔ مکانات اور کھیت اجڑ گئے مگر پاکستانی قوم اور اس کی افواج نے مایوسی کو عزم میں بدلا۔ 2014 میں پنجاب اور کشمیر کے سیلاب نے ایک اور کڑا امتحان دیا، ڈھانچے اور روزگار بہہ گئے لیکن ایک بار پھر پاکستان نے ہمت نہ ہاری اور آگے بڑھا۔


خیبر پختونخوا کی حالیہ آفت اسی طویل اور کربناک تاریخ کا حصہ ہے مگر یہ پاکستان کی استقامت کی روایت کا تسلسل بھی ہے۔ ہر آفت نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان کی اصل طاقت مشکلات کے نہ ہونے میں نہیں بلکہ ان کا مقابلہ کرنے کے حوصلے میں ہے۔ پاک فوج کی وہ قربانیاں جو اپنے عوام کے لیے امن کے وقت میں بھی جان ہتھیلی پر رکھ کر دی جاتی ہیں، ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ اسی طرح بیرونِ ملک پاکستانی اور عام شہریوں کی ہمدردی اور تعاون بھی اس قوم کے ناقابلِ شکست جذبے کو ظاہر کرتے ہیں۔


جب پانی اُترے گا تو بحالی اور تعمیرِ نو کا مرحلہ صبر، وسائل اور مستقل محنت کا متقاضی ہوگا۔ مگر اللہ تعالیٰ پر ایمان، عوام کے اتحاد اور محافظوں کی شب و روز خدمت سے پاکستان ایک بار پھر ملبے سے اُٹھے گا۔ جیسے اندھیری طوفانی رات کے بعد سورج نکلتا ہے، ویسے ہی امید کی کرنیں خیبر پختونخوا کی وادیوں میں لوٹ آئیں گی۔ آرمی چیف کے اعلان کے مطابق، پاک فوج صوبے کے بہادر عوام کے ساتھ ہر مشکل گھڑی میں شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔ اور جیسا کہ تاریخ گواہ ہے، کوئی آفت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، ایمان، قربانی اور استقامت سے جڑی ایک قوم کے عزم کو شکست نہیں دے سکتی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرالاسکا میں پیوٹن کا استقبال کرنے والے “ایف-22” طیاروں کا کیا قصہ ہے؟ معرکہ حق کا اعتراف ِ حق آزادی کا 78 سالہ سفر اور خواتین کا کردار امن یا کشیدگی: پاکستان بھارت تعلقات کے مستقبل پر نظر ثانی بی ایل اے بے نقاب: دہشت گردی اور مودی کی پشت پناہی کا گٹھ جوڑ سردار ایاز صادق، جامعہ نعیمیہ اور حلقہ کی تبدیلی واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: عوام کے کے لیے

پڑھیں:

امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔

Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…

— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔

یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔

امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔

یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔

دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔

اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔

مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے

متعلقہ مضامین

  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار