اے این پی کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس، نون لیگ اور پی پی کا مشترکہ اعلامیے پر دستخط کرنے سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
مسلم لیگ نون اور پی پی کے راہنماؤں نے اے پی سی اعلامیے پر دستخط نہیں کیے۔ لیگی سینیٹر کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے نہیں آپ کے مطالبات اور آپ کا مؤقف ہے، جب اعلامیہ پڑھا جا رہا تھا تو تینوں راہنما اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا۔ تاہم مسلم لیگ نون کے سینیٹر عرفان صدیقی، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری اور پی پی کے نیئر بخاری نے اے پی سی اعلامیے پر دستخط نہیں کیے۔ عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے نہیں آپ کے مطالبات اور آپ کا مؤقف ہے، جب اعلامیہ پڑھا جا رہا تھا تو تینوں راہنما اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔ آل پارٹیز کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی، انتہاپسندی اور بدامنی کی ہر شکل کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔ ان مسائل کو ناقص حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ ان مسائل کے خاتمے کے لیے جامع اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں جاری تمام آپریشن فوری بند کیے جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔